پاکستان نے ویٹو پاور کی توسیع کی مخالفت کرتے ہوئے سلامتی کونسل میں جامع، جمہوری اور منصفانہ اصلاحات پر زور دی

اقوام متحدہ میں پاکستان نے سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کی توسیع کی واضح مخالفت کرتے ہوئے جامع، جمہوری اور منصفانہ اصلاحات پر زور دیا ہے۔ پاکستان نے اس بات پر بھی دوبارہ زور دیا کہ ویٹو کے استعمال کے بعد جنرل اسمبلی میں بحث کا انعقاد ضروری ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے قونصلرگل قیصر سروانی نے کہا کہ ویٹو پاور میں توسیع سے سلامتی کونسل میں عدم مساوات مزید گہری ہو جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نئے مستقل ارکان کی شمولیت اور ویٹو کے استحقاق میں توسیع کی مخالفت کرتا ہے۔

قونصلرگل قیصر سروانی نے کہا کہ پاکستان ویٹو پاور کے مکمل خاتمے یا اس کے استعمال پر سخت پابندیوں کا حامی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ویٹو پاور کا ناجائز استعمال اقوام متحدہ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچاتا ہے اور عالمی امن و سلامتی کے نظام کو کمزور کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل میں منتخب ارکان کی تعداد، نمائندگی اور کردار بڑھایا جانا چاہیے۔ اصلاحات کے پانچوں نکات پر جامع پیکج کے تحت بیک وقت فیصلے کیے جائیں تاکہ عمل میں تاخیر نہ ہو۔قونصلرگل کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کی اصلاحات سب کے لیے یکساں ہونی چاہئیں اور کسی بھی ملک یا گروہ کے لیے خصوصی مراعات نہیں دی جانی چاہئیں۔

پاکستان کا موقف ہے کہ صرف مساوی اور شفاف اصلاحات ہی سلامتی کونسل کو حقیقی معنوں میں نمائندہ اور مؤثر بنا سکتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے