سوئی گیس بند، ایل پی جی بلیک میں فروخت، ننکانہ کے شہری پریشان

ننکانہ صاحب (، کیو این این ورلڈ/بیورو چیف احسان اللہ ایاز) ننکانہ صاحب اور گردونواح میں سوئی گیس کے سنگین بحران نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ کئی علاقوں میں گزشتہ چھ ماہ سے گیس کی فراہمی معطل ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جبکہ متعدد آبادیوں میں کئی روز سے گیس مکمل طور پر بند ہے۔ جن علاقوں میں گیس کی فراہمی جاری ہے، وہاں انتہائی کم پریشر کے باعث شہریوں، بالخصوص خواتین کو کھانا پکانے اور دیگر گھریلو امور کی انجام دہی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

سوئی گیس کی طویل بندش اور کم پریشر کے باعث شہری متبادل کے طور پر ایل پی جی استعمال کرنے پر مجبور ہیں، تاہم ایل پی جی کی قیمتوں میں بھی مبینہ من مانی اور گرانفروشی نے عوام کی مشکلات دوچند کر دی ہیں۔ شہریوں کے مطابق ننکانہ صاحب اور گردونواح میں ایل پی جی سرکاری نرخ پر دستیاب نہیں اور مختلف دکانوں پر اسے 400 سے 440 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔

حکومت اور اوگرا کی جانب سے ایل پی جی کی قیمت میں 4 روپے 33 پیسے فی کلو اضافے کے بعد نئی سرکاری قیمت 258 روپے 65 پیسے فی کلو مقرر کیے جانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ اوپن مارکیٹ میں سرکاری نرخ پر عملدرآمد دکھائی نہیں دے رہا۔

دوسری جانب مقامی ایل پی جی دکانداروں کا مؤقف ہے کہ انہیں پلانٹس، ہول سیلرز اور سپلائرز کی جانب سے ایل پی جی سرکاری نرخ سے کہیں زیادہ قیمت پر فراہم کی جا رہی ہے، جس کے باعث وہ بھی مقررہ قیمت پر گیس فروخت کرنے سے قاصر ہیں۔

شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک جانب سوئی گیس کی مناسب فراہمی نہیں ہو رہی، جبکہ دوسری جانب گیس کے بل موصول ہو رہے ہیں۔ متبادل کے طور پر مہنگی ایل پی جی کی خریداری متوسط اور غریب طبقے کے لیے معاشی بوجھ بنتی جا رہی ہے۔

اہلِ ننکانہ صاحب نے اعلیٰ حکام، اوگرا اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سوئی گیس کی فراہمی اور پریشر فوری طور پر بحال کیا جائے، جبکہ ایل پی جی کی سرکاری نرخوں پر دستیابی یقینی بناتے ہوئے گرانفروشی اور مبینہ طور پر من مانی قیمتیں وصول کرنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے