سرحدیں کھولنے سے زیادہ ضروری تجارتی اعتماد کی بحالی ہے، پاک افغان جائنٹ چیمبر

پشاور (کیو این این ورلڈ/بیوروچیف) پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PAJCCI) نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت اور ٹرانزٹ کو سیاسی اور سفارتی اختلافات سے مکمل طور پر الگ رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک تجارتی سرگرمیوں کو سیاسی معاملات سے جوڑا جاتا رہے گا، خطے میں پائیدار استحکام، معاشی ترقی اور مؤثر علاقائی رابطہ کاری کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔

پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر ضیاء الحق سرحدی (ستارۂ امتیاز) اور افغانستان چیپٹر کے ڈائریکٹر احمد شاہ یار زادہ نے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشترکہ بیان میں کہا کہ تجارت اور ٹرانزٹ میں بار بار پیدا ہونے والی رکاوٹوں اور اچانک فیصلوں کے باعث دونوں ممالک کے تاجروں، صنعتکاروں، کسانوں، ٹرانسپورٹرز، مزدوروں، کسٹمز ایجنٹس اور دیگر متعلقہ شعبوں کو پہلے ہی بھاری اور بعض صورتوں میں ناقابلِ تلافی معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تجارت اور علاقائی رابطہ کاری کا بنیادی مقصد عوام اور معیشت کے مفادات کا تحفظ ہونا چاہیے۔ دونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان سیاسی اختلافات اپنی جگہ، تاہم ان اختلافات کی بنیاد پر تجارت اور ٹرانزٹ کو متاثر کرنا نہ صرف کاروباری برادری بلکہ پورے خطے کی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

ضیاء الحق سرحدی اور احمد شاہ یار زادہ نے کہا کہ اس مسئلے کا واحد عملی اور پائیدار حل یہ ہے کہ تجارت، ٹرانزٹ اور علاقائی رابطہ کاری کو سیاسی تنازعات سے مکمل طور پر الگ کر دیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو طویل المدتی استحکام، معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور قابلِ اعتماد تجارتی روابط کی توقع رکھنا ایک سنگین غلطی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں ممالک معاشی تعاون کو ترجیح دیں، کاروباری برادری کے مفادات کا تحفظ کریں اور تجارت و ٹرانزٹ کے راستوں کو مستقل، محفوظ اور قابلِ پیش گوئی بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود ٹرانزٹ معاہدے کا ازسرِنو جائزہ لے کر ایسی ضروری ترامیم کی جائیں جو دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور ٹرانزٹ کو طویل المدتی تحفظ اور یقینی صورتحال فراہم کر سکیں۔

مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ نظرثانی شدہ پاک افغان ٹرانزٹ فریم ورک میں ایک خصوصی اور قانونی طور پر پابند شق شامل کی جائے، جس میں واضح طور پر درج ہو کہ تجارت، ٹرانزٹ اور علاقائی رابطہ کاری کو سیاسی تنازعات یا دوطرفہ سفارتی اختلافات سے مشروط نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو باضابطہ طور پر یہ ضمانت دینی چاہیے کہ کسی بھی سیاسی یا سفارتی اختلاف کی صورت میں تجارت اور ٹرانزٹ کو سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح کسی بھی فریق کی جانب سے تجارتی یا ٹرانزٹ سرگرمیوں کی معطلی اور پابندی کو سیاسی ہتھیار بنانے سے گریز کیا جانا چاہیے۔

پاک افغان جائنٹ چیمبر کے رہنماؤں نے مزید کہا کہ تجارتی راستوں کو یکطرفہ طور پر بند یا متاثر نہیں کیا جانا چاہیے، سوائے ایسے غیر معمولی حالات کے جو پہلے سے واضح اور دونوں ممالک کے باہمی اتفاق سے طے شدہ ہوں۔ انہوں نے زور دیا کہ سیکیورٹی یا انتظامی نوعیت کے مسائل کو تجارت اور ٹرانزٹ مکمل طور پر بند کرنے کے بجائے باہمی مشاورت اور طے شدہ ادارہ جاتی طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ تاجروں، صنعتکاروں، کسانوں، ٹرانسپورٹرز، مزدوروں، کسٹمز ایجنٹس اور دیگر تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے حقوق اور مفادات کا تحفظ یقینی بنانا دونوں ممالک کی ذمہ داری ہے۔ اگر قابلِ اعتماد اور قانونی ضمانت فراہم نہ کی گئی تو تجارت اور ٹرانزٹ کو بار بار کھولنے اور بند کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا، جس سے غیر یقینی صورتحال مزید بڑھے گی اور سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ تجارتی سرگرمیوں میں بار بار تعطل سے کاروباری اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے، مال برداری اور ترسیل کے نظام میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں اور پورے خطے کی علاقائی رابطہ کاری کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر سیاسی اختلافات پیدا ہوتے ہی تجارت اور ٹرانزٹ کو بند کیا جا سکتا ہے تو پھر تجارتی راہداریوں، ٹرانزٹ روٹس اور علاقائی رابطہ کاری کے منصوبوں کی افادیت کیا رہ جاتی ہے۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران تجارت اور ٹرانزٹ میں پیدا ہونے والے تعطل کے باعث تاجروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو انتہائی بھاری اور کئی صورتوں میں ناقابلِ تلافی مالی نقصانات برداشت کرنا پڑے ہیں۔ موجودہ حالات میں محض سرحدیں دوبارہ کھول دینا اور تجارت و ٹرانزٹ بحال کر دینا کافی نہیں ہوگا کیونکہ کاروباری برادری کا اعتماد بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاجروں اور سرمایہ کاروں کو یہ خدشہ بدستور لاحق ہے کہ مستقبل میں کسی سیاسی یا سفارتی اختلاف کی صورت میں تجارت اور ٹرانزٹ کو دوبارہ کسی بھی وقت معطل کیا جا سکتا ہے۔ ایسی غیر یقینی صورتحال میں تاجروں، صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں سے معمول کی کاروباری سرگرمیاں بحال کرنے یا نئی سرمایہ کاری کی توقع رکھنا مشکل ہوگا۔

ضیاء الحق سرحدی اور احمد شاہ یار زادہ نے کہا کہ تاجروں، صنعتکاروں، ٹرانسپورٹرز، سرمایہ کاروں اور دیگر کاروباری حلقوں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے دونوں ممالک کی جانب سے واضح، مؤثر اور قانونی طور پر پابند ضمانت فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ نظرثانی شدہ پاک افغان ٹرانزٹ فریم ورک میں ایسا مضبوط نظام شامل ہونا چاہیے جو مستقبل میں تجارت اور ٹرانزٹ کو من مانی طور پر معطل یا متاثر کیے جانے سے روک سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ تجارت اور ٹرانزٹ کو سیاسی تنازعات سے محفوظ رکھا جائے اور انہیں سیاسی دباؤ یا کسی قسم کے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔ ان کے مطابق پائیدار تجارت، سرمایہ کاری، ٹرانزٹ اور علاقائی رابطہ کاری اسی وقت ممکن ہے جب کاروباری برادری کو یقین ہو کہ تجارتی راستے کھلے، محفوظ، مستقل اور قابلِ پیش گوئی رہیں گے۔

پاک افغان جائنٹ چیمبر کے رہنماؤں نے کہا کہ تجارت کی بحالی کا پہلا قدم صرف سرحدیں کھولنا نہیں بلکہ کاروباری برادری کا اعتماد بحال کرنا ہے۔ قابلِ اعتماد ضمانت اور باہمی اعتماد کی بحالی کے بغیر تجارت کا دوبارہ آغاز محض ایک عارضی حل ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ پاکستان، افغانستان اور پورے خطے کی معاشی ترقی کے لیے ایک مستقل، قابلِ اعتماد اور سیاسی تنازعات سے محفوظ تجارتی فریم ورک وقت کی اہم ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے