لاہور(کیو این این ورلڈ) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہے، تاہم دو صوبوں میں امن و امان تباہ ہو چکا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں عملاً کوئی حکومت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان سے بھی بھتہ طلب کیا جاتا ہے، جبکہ بھتہ نہ دینے کی وجہ سے ان کے بیٹوں اور بھتیجوں پر حملے کیے گئے۔
لاہور میں سینئر صحافیوں سے سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انہوں نے دو مرتبہ پارلیمنٹ میں ان کیمرہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا، تاہم ان کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں نہ پاکستانی سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور نہ ہی بیرونِ ملک سے سرمایہ کار آ رہے ہیں، جبکہ پاکستان کی تجارت کا ایک اہم دارومدار وسطی ایشیائی ممالک پر تھا، لیکن اب یہ تجارت بھی متاثر ہو کر رہ گئی ہے۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ پاکستان سے سبزیاں اور پھل وسطی ایشیا کو برآمد کیے جاتے تھے، تاہم موجودہ صورتحال کے باعث یہ سلسلہ بھی تقریباً ختم ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق امن و امان کی خراب صورتحال اور تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹیں ملکی معیشت کے لیے تشویش ناک ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے موجودہ پارلیمنٹ پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ دھاندلی سے بنی ہے اور این ایف سی ایوارڈ حکومت کو ہضم نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں موجود معدنی ذخائر کے معاملات کو عوام کے سامنے لاکر شفاف انداز میں حل کیا جانا چاہیے، جس میں وفاق، صوبوں اور عوام کا حصہ واضح طور پر متعین ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے درمیان اختیارات کی مناسب تقسیم سے عوامی مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر جے یو آئی نے حکومت کو 35 شقوں سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا، جو ان کے بقول جے یو آئی اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان اشتراک اور مشاورت کا نتیجہ تھا۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ مشترکہ حکمت عملی کے لیے جے یو آئی نے پی ٹی آئی کے ساتھ پارلیمنٹ میں الائنس بھی تشکیل دیا تھا۔ محسن نقوی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنی سابقہ رائے کے حوالے سے کہا کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’جو میرا ذہن ہے وہی نواز شریف کا ذہن ہے، یہ اور بات ہے کہ میں بول رہا ہوں اور وہ خاموش ہیں۔‘‘