ندھا قتل کیس ٹریس، خیبر پولیس نے پانچ دن میں معصوم بچے کے قاتل پکڑ لیے

خیبر (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار): خیبر کی تحصیل میلوارڈ پولیس نے ایک اہم اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے گزشتہ ہفتے پیش آنے والے اندھے قتل کا معمہ حل کر لیا اور پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی کمسن مہران کے سفاک قاتلوں کو گرفتار کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق مدعی زاہد ولد اصل خان کی رپورٹ پر درج مقدمے کے مطابق 30 اپریل 2024 کو تھانہ میلوارڈ کی حدود عزیز مارکیٹ کے قریب کمسن بچے مہران کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ مقتول اپنی بہنوں کے ہمراہ ایک شادی کی تقریب میں گیا تھا، جہاں سے بعد ازاں وہ پراسرار طور پر لاپتہ ہوگیا اور صبح اس کی لاش علاقے سے ملی۔

نامعلوم ملزمان نے معصوم بچے کو پستول سے فائرنگ کرکے بے دردی سے قتل کیا، جس کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ اور خوف کی فضا پیدا ہوگئی تھی۔

واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او خیبر وقار احمد نے فوری کارروائی کے احکامات جاری کیے اور ایس پی انویسٹی گیشن شفیق خان کی نگرانی میں خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی۔ ٹیم میں ایس ایچ او شمشاد خان، انچارج چوکی مغرب خان، ایڈیشنل ایس ایچ او لعل کلام اور تفتیشی افسر ظہور خان شامل تھے۔

پولیس ٹیم نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے جدید سائنسی طریقوں اور مسلسل تفتیش کے ذریعے کیس کو آگے بڑھایا اور صرف پانچ دن کے اندر اصل ملزمان تک رسائی حاصل کر لی۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان عادل محمد ولد تازہ خان اور جمروز ولد یار اکبر (قوم اکاخیل مداخیل) ہیں، جن کی نشاندہی پر آلہ قتل 30 بور پستول، مقتول کا جلا ہوا موبائل فون اور موٹر سائیکل بھی برآمد کر لی گئی ہے۔

ڈی پی او خیبر وقار احمد نے اس کامیاب کارروائی پر پولیس ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچے کے قتل میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانا بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پولیس جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھے گی اور کسی بھی بے گناہ شہری کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے