میہڑ ( کیو این این ورلڈ/نامہ نگار منظور علی جوئیہ)اجالا پروین سولنگی کے ہائی پروفائل گمشدگی کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں ایس ایس پی دادو کیپٹن (ر) صدام حسین خاصخیلی میہڑ پہنچے اور جے آئی ٹی کے ہمراہ اب تک ہونے والی تحقیقات کا تفصیلی جائزہ لیا۔
ایس ایس پی دادو نے متاثرہ بچی کے ورثاء سے ملاقات کی اور ان سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مکمل انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ جے آئی ٹی ٹیم نے سینئر افسران کے ساتھ مل کر واقعے کے مختلف پہلوؤں پر تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ ٹیم نے جائے وقوعہ کا معائنہ کر کے شواہد اکٹھے کرنے کا عمل تیز کر دیا ہے اور تحقیقات میں جدید ٹیکنالوجی کی مدد بھی لی جا رہی ہے۔
میہڑ تھانے پر گفتگو کرتے ہوئے ایس ایس پی صدام حسین خاصخیلی نے کہا کہ اجالا پروین کیس کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور پولیس ہر زاویے سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی کیس میں بڑی کامیابی حاصل ہوگی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ قانون کی گرفت سے کوئی بھی ملزم بچ نہیں سکے گا اور بچی کی بحفاظت بازیابی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اجالا پروین کو لاپتہ ہوئے 7 دن گزر چکے ہیں لیکن تاحال اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ بچی کی عدم بازیابی پر ورثاء شدید ذہنی کرب اور پریشانی کا شکار ہیں، جبکہ شہر میں احتجاجی مظاہروں اور تلاش مہم کا سلسلہ بھی مسلسل جاری ہے۔