امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ختم، متعدد شہروں پر شدید بمباری سے پورا خطہ پریشان

واشنگٹن/ تہران (کیو این این ورلڈ) امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہونے کے بعد امریکی افواج نے مسلسل دوسرے روز ایران کے جنوبی اور شمال مشرقی علاقوں پر بڑے پیمانے پر فضائی اور میزائل حملے کیے ہیں۔ امریکی عہدیداروں کے مطابق تازہ کارروائیوں کا دائرہ کار منگل کے حملوں سے کہیں زیادہ وسیع اور بڑے پیمانے پر ہے، جس میں بندر عباس سمیت مختلف شہروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان حملوں کے بعد جنوبی علاقوں میں ایرانی فضائی دفاعی نظام کو فوری طور پر فعال کر دیا گیا ہے جس نے بندر عباس کے قریب دشمن کے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے جوابی کارروائی کی، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ تازہ حملوں سے کتنا مجموعی نقصان ہوا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی فوج نے بندر عباس میں 8 مقامات کو نشانہ بنایا جبکہ بوشہر، کونارک، جزیرہ ابو موسیٰ اور چاہ بہار کے قریب بھی شدید دھماکے سنے گئے۔ ان مبینہ حملوں کے باعث چاہ بہار میں بجلی معطل ہو گئی جسے چند گھنٹوں بعد بحال کر دیا گیا۔ مہر نیوز کے مطابق چاہ بہار کی بندرگاہ کے علاقے میں موجود 2 بحری گھاٹوں، ایک بحری ٹریفک کنٹرول ٹاور اور ایک ڈپو کو نشانہ بنایا گیا، تاہم جنوبی صوبے بوشہر میں کیے گئے الگ حملوں سے وہاں موجود جوہری تنصیب کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ اس کے علاوہ ایران کے جنوب مشرقی شہر اور ایران شہر کے ہوائی اڈے و موسمیاتی اسٹیشن پر رات ساڑھے 12 بجے 4 زور دار دھماکے ہوئے، جس سے دونوں عمارتوں کو نقصان پہنچا اور ایئرپورٹ پر تعینات ایک فائر فائٹر شہید ہو گیا، جس کی تصدیق سیستان و بلوچستان صوبے کے نائب گورنر اور ایران شہر کے گورنر نے بھی کی ہے۔

امریکی فورسز نے ایران کے شمال مشرقی صوبے گلستان میں ایک ریلوے پل کو بھی فضائی حملے کا نشانہ بنایا، جہاں رات ڈیڑھ بجے پل پر 7 میزائل فائر کیے گئے جن میں سے 2 ریلوے ٹریک پر گرے اور دھماکے ہوئے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ رات امریکی فوج نے ایران کے 80 مقامات پر حملے کیے تھے جن میں 8 ایرانی فوجی شہید اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ ان تازہ حملوں کے بعد ایران کی واحد سمندری بندرگاہ اور عالمی تجارت کے اہم مرکز چاہ بہار فری زون میں ہنگامی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ چاہ بہار فری زون آرگنائزیشن کے سربراہ کے مطابق گوداموں میں موجود گاڑیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، جس کے تحت نصف شب تک 300 اور صبح ہونے سے قبل مزید 100 گاڑیاں محفوظ مقامات پر منتقل کی جا چکی ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے ساتھ پانے والی مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے اور کہا ہے کہ "اب جنگ ہے”۔ صدر ٹرمپ نے سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے مزید حملے کیے تو امریکہ ہر حملے کے جواب میں 20 گنا زیادہ طاقت سے کارروائی کرے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ فوجی لحاظ سے پہلے ہی کامیابی حاصل کر چکا ہے اور ایران کے پاس اب بہت کم وقت رہ گیا ہے، وہ معاہدہ تو کرنا چاہتا ہے لیکن مجھے نہیں معلوم کہ وہ اس کے قابل بھی ہے یا نہیں اور نہ ہی یہ یقین ہے کہ وہ اس پر عمل کرے گا۔ تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ سچ پوچھیں تو ایرانی کچھ حد تک قابو سے باہر اور پاگل پن کا مظاہرہ کر رہے ہیں لیکن ہم نے انہیں بہت سخت نشانہ بنایا ہے۔ مکمل فوجی جنگ کی طرف واپسی کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ میں نہیں جانتا، ہمارے پاس جیتنے کے بہت سے طریقے ہیں۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واشنگٹن ڈی سی میں نیوز بریفنگ کے دوران انتباہ جاری کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوشش کی تو امریکی فوج کی جانب سے اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس دو ہی راستے ہیں، یا تو وہ بحری راستہ کھلا رکھے اور جہازوں پر حملے بند کر دے یا پھر اسے مسلسل امریکی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ کارروائیاں امریکی کمانڈر ان چیف کی ہدایت پر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات سے نمٹنا اور ایران کی ان صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے جنہیں واشنگٹن اپنے مفادات کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ سینٹ کام کے مطابق منگل کی کارروائی میں ایران میں 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا تھا، جن میں فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورک، ساحلی ریڈار تنصیبات، بحری جہاز شکن میزائل اور پاسدارانِ انقلاب کی 60 سے زائد چھوٹی کشتیاں شامل تھیں۔

امریکی کارروائیوں پر ایرانی مسلح افواج اور سیاسی قیادت کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور منہ توڑ جواب دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ خاتم الانبیا مشترکہ فوجی ہیڈکوارٹرز نے خبردار کیا ہے کہ ان امریکی حملوں کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور ایرانی مسلح افواج ان کا بھرپور جواب دیں گی۔ ایرانی بحریہ کے ریئر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے امریکی صدر کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی بحریہ تباہ نہیں ہوئی، امریکہ نے ایرانی سرزمین پر اترنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن اسے عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر غیر ملکی فوج ایرانی ساحل پر اترنے کی کوشش کرے گی تو یہ علاقہ حملہ آوروں کے لیے جہنم بنا دیا جائے گا۔ ایران نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ دوبارہ حملوں کی صورت میں آبنائے ہرمز کو بند کر دیا جائے گا اور ٹرمپ کے خارگ جزیرے پر قبضے کے بیان پر کہا کہ دشمن کے ایک حملے کا جواب 2 حملوں سے دیا جائے گا۔

ایرانی سپریم لیڈر کے بین الاقوامی امور کے سینئر مشیر علی اکبر ولایتی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ خطہ چھوٹے ممالک کی سیاسی جوئے بازی کی جگہ نہیں ہے، خطے کو پاک کرنے کے لیے ایران کی انگلی ٹریگر پر ہے اور حالیہ کشیدگی کی مکمل ذمہ داری واشنگٹن پر عائد ہوتی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی قوم تہذیب، ثقافت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کے لیے جانی جاتی ہے، توہین آمیز زبان سے اس کی عظمت کم نہیں ہوتی، ہم بدزبانی کا جواب بدزبانی سے نہیں بلکہ بے خوفی، غیر معمولی بہادری اور عمل سے دیتے ہیں۔ نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے ٹرمپ کے بیانات کو طاقت کے بجائے واشنگٹن کی برسوں پرانی ایران پالیسی کی ناکامی کا اعتراف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو اب ٹرمپ سے ان ہی کی زبان میں بات کرنی چاہیے کیونکہ وہ صرف طاقت کی زبان ہی سمجھتے ہیں۔

عالمی اور عرب میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سیاسی حمایت برقرار رکھنے کے لیے ان حملوں کو محدود اقدام کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ زیادہ تر عوامی جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی شہری طویل جنگ یا مسلسل فوجی تنازع کے حق میں نہیں ہیں۔ پینٹاگون کے سابق عہدیدار اور نیٹو آپریشنز کے سابق ڈائریکٹر ڈیوڈ ڈیس روشز نے کہا ہے کہ امریکہ نے مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے اور تیل پابندیوں میں نرمی کے وعدے پورے کیے تھے، لیکن ایران نے بحری جہازوں کو نشانہ بنا کر شرائط سے ہٹ کر نئی صورتحال قائم کرنے کی کوشش کی جو ٹرمپ کے لیے ناقابل قبول تھی۔ انہوں نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ بحری جہازوں پر حملے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کسی ایسے دھڑے کی کارروائی ہو سکتے ہیں جو سفارتی عمل کو ناکام بنانا چاہتا تھا۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق صدر ٹرمپ کے سخت اور توہین آمیز الفاظ، جن میں انہوں نے ایرانیوں کو "سنکی” قرار دیا، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ واشنگٹن اب سفارتی حل کے بجائے فوجی آپشن کی طرف بڑھ رہا ہے جس سے جنگ بندی معاہدہ شدید خطرے سے دوچار ہو گیا ہے۔

امریکہ کے اندر سے بھی اس فوجی مہم جوئی پر تنقید سامنے آئی ہے۔ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے ایران کے ساتھ دوبارہ جنگی کارروائیوں کے آغاز پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جھوٹ پر مبنی جنگ میں امریکہ کو دھکیلنے کے بعد ٹرمپ نے ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں ایران کے ساتھ جنگ بندی کو ختم قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس لاپروا جنگ سے امریکہ مضبوط نہیں ہوگا بلکہ اس کی قیمت مزید انسانی جانوں اور ٹیکس دہندگان کے اربوں ڈالرز کے ضیاع کی صورت میں ادا کرنا پڑے گی، اس لیے فوجی تصادم کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب، بین الاقوامی سطح پر اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر واضح کیا ہے کہ اٹلی کا مؤقف بالکل تبدیل نہیں ہوا اور وہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا۔ ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اپنے ترجمان اسٹیفن دوجارک کے ذریعے تمام فریقین سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور فوری طور پر تناؤ کم کر کے مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کرنے کی اپیل کی ہے کیونکہ سفارت کاری ہی مسائل کے پائیدار حل کا واحد راستہ ہے۔

پاکستان نے بھی خطے میں بڑھتی ہوئی اس شدید کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نے اپنے بیان میں تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو خطے کے امن و استحکام کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہو، کیونکہ کسی بھی نئے تنازع یا تصادم میں کسی بھی فریق کا مفاد نہیں۔ ترجمان نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کی پاسداری کریں، کیونکہ یہ معاہدہ خطے اور اس سے باہر باہمی افہام و تفہیم، احترام اور مشترکہ خوشحالی کی ایک مضبوط اور دیرپا بنیاد فراہم کرتا ہے۔ دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور سفارتی حل کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار آئندہ بھی جاری رکھے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے