ریاض (کیو این این ورلڈ)سعودی قیادت میں اتحادی فورسز نے یمن میں حوثی ملیشیا کے اہلکاروں اور ان کی فوجی صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اتحادی فورسز کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر متعدد پوسٹس میں بتایا کہ حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں 136 فوجی اہداف تباہ کر دیے گئے ہیں۔ ترجمان کے مطابق یہ کارروائیاں حوثی ملیشیا کے مختلف عناصر اور ان کی عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں جبکہ حوثیوں کے بیلسٹک میزائل نیٹ ورک کو ختم کرنے اور تباہ کرنے کے لیے بھی مسلسل کارروائیاں جاری ہیں۔ یمنی مسلح افواج کے دستوں کو چوبیس گھنٹے فضائی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
یہ کارروائیاں یمن میں جاری فوجی پیش قدمی کا حصہ ہیں جو 5 اکتوبر 2026 کو شروع ہونے والے آپریشن فجر یمن کے تحت ہو رہی ہیں۔ یمنی صدارتی قیادت کونسل کے چیئرمین رشید العلیمی نے اس آپریشن کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد ریاستی اداروں کی بحالی، دارالحکومت صنعاء کی آزادی اور حوثی بغاوت کا خاتمہ ہے۔ اس آپریشن میں سعودی قیادت والے اتحاد نے تقریباً سو جنگی طیاروں کے ساتھ وسیع فضائی مدد فراہم کی اور ابتدائی مرحلے میں سینکڑوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
حوثیوں نے ستمبر 2026 میں بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع اہم بندرگاہ موخا اور باب المندب آبنائے کے آس پاس کے علاقوں پر قبضہ کر کے بین الاقوامی شپنگ روٹ کو شدید خطرے میں ڈال دیا تھا۔ باب المندب پر قبضے کے بعد حوثیوں نے بحیرہ احمر یا ریڈ سی کی بین الاقوامی بحری راہداری پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا جس سے عالمی تیل اور مال بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ اس پیش قدمی کے جواب میں یمنی حکومتی افواج نے سعودی فضائی مدد سے جوابی کارروائی شروع کی۔ سعودی سفیر محمد الجابر نے جمعہ کو اعلان کیا کہ آبنائے باب المندب اور مایون جزیرہ حوثیوں سے مکمل طور پر صاف کر دیا گیا ہے۔ جنوبی جائنٹس بریگیڈز اور نیشنز شیلڈ فورسز نے اتحادی فضائی معاونت کے ساتھ علاقے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا اور حوثی جنگجوؤں کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ حوثی ترجمان نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے لیکن یمنی اور سعودی ذرائع کے مطابق آبنائے اور اس کے آس پاس کے پہاڑی علاقے اب حکومتی افواج کے کنٹرول میں ہیں۔
حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب پر بھی شدید حملے کیے ہیں۔ 8 اکتوبر کو ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ایئرپورٹ پر دو حملے ہوئے جن میں تین سعودی شہری ہلاک ہوئے جن میں سعودیہ ایئر لائنز کے ایک پائلٹ بھی شامل تھے۔ حملوں میں کئی افراد زخمی ہوئے اور ایک سعودیہ طیارہ نقصان پہنچا۔ اس سے پہلے ابھا اور دیگر سعودی ایئرپورٹس پر بھی حوثی میزائل اور ڈرون حملے ہوئے تھے جن میں مزید جانی نقصان ہوا۔ سعودی حکام نے ان حملوں کو شہری اہداف پر حملہ قرار دیا اور سخت جوابی کارروائی کا اعلان کیا۔
دیگر اہم محاذوں پر تازہ صورتحال یہ ہے کہ تعز شہر کے اردگرد لڑائی جاری ہے جہاں حوثی افواج نے شہر کو گھیرنے کی کوشش کی تھی لیکن حکومتی افواج نے ان کی پیش قدمی کو روک دیا ہے۔ مارب صوبے میں بھی حکومتی فوجیں حوثی پوزیشنوں پر حملے کر رہی ہیں اور کئی مقامات پر حوثی جنگجوؤں کو پسپا کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ساحلی علاقوں میں موخا کی طرف پیش قدمی جاری ہے جبکہ سعدہ اور دیگر شمالی علاقوں میں اتحادی فضائی حملے جاری ہیں۔ یمنی افواج کا کہنا ہے کہ وہ مختلف محاذوں پر ہزاروں آپریشنز کر چکے ہیں اور حوثیوں کے بڑے نقصان کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اتحادی فورسز کا موقف ہے کہ وہ حوثیوں کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنے اور یمنی حکومت کی حمایت جاری رکھیں گے تاکہ علاقے میں استحکام بحال ہو سکے۔