پشاور (کیو این این ورلڈ) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیرِ صدارت محکمہ انرجی اینڈ پاور سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کے جاری توانائی منصوبوں، نیٹ ہائیڈل پاور منافع کے واجبات، تیل و گیس کے شعبے کو درپیش مسائل اور وفاقی حکومت کے ساتھ متعلقہ امور کا جائزہ لیا گیا۔ گورنر نے نیٹ ہائیڈل پاور منافع کے واجبات کے معاملے پر وفاقی حکومت کو باضابطہ خط لکھنے اور صوبے کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں مشیر توانائی عثمان سیف اللہ خان، سیکرٹری توانائی محمد زبیر خان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ سیکرٹری توانائی نے گورنر کو محکمے کے امور، جاری ترقیاتی منصوبوں، وفاقی حکومت کے ساتھ درپیش مسائل، نیٹ ہائیڈل پاور منافع کے واجبات اور توانائی کے شعبے سے متعلق دیگر معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس میں 94 میگاواٹ کے گبرال کالام، 470 میگاواٹ کے کوریا ہائیڈرو پاور اور 229 میگاواٹ کے کیدام پاور منصوبوں سمیت پیہور منصوبے پر پیش رفت اور درپیش مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ حکام نے صوبے میں تیل و گیس کے شعبے سے متعلق معاملات، گیس پر ایکسائز ڈیوٹی، ایل پی جی پالیسی 2016، ایل پی جی کے 10 فیصد کوٹے کی تخصیص اور صنعتی شعبے کو روزانہ 100 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی فراہمی سے متعلق امور پر بھی بریفنگ دی۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے ہدایت کی کہ نیٹ ہائیڈل پاور منافع کے واجبات کے معاملے کو وفاقی حکومت کے ساتھ باضابطہ طور پر اٹھایا جائے اور اس کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں درپیش مسائل کے حل اور صوبے کے حقوق کے تحفظ کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ رابطہ مؤثر بنایا جائے گا۔
اجلاس میں اورکزئی، تیراہ اور میرانشاہ کے گیس بلاکس سمیت مختلف منصوبوں کو درپیش مسائل بھی زیرِ غور آئے۔ گورنر نے کہا کہ گیس اور توانائی کے دیگر معاملات کے حل کے لیے وفاقی اداروں کے ساتھ بات چیت کی جائے گی اور صوبے کے جائز حقوق سے متعلق تمام امور وفاقی حکومت کے سامنے مؤثر انداز میں اٹھائے جائیں گے۔
فیصل کریم کنڈی نے مقامی وسائل سے بھرپور استفادہ کرنے اور صنعتی ترقی کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ توانائی کے وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرکے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق صوبے میں صنعتی ڈھانچے اور صنعتوں کی ترقی سے وفاقی حکومت کی جانب سے حاصل ہونے والی سہولیات سے بھی بہتر طور پر فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔
گورنر نے مشیر توانائی کو ہدایت کی کہ محکمہ توانائی کے تمام مسائل، جاری منصوبوں اور مستقبل کی ضروریات کے حوالے سے ٹھوس تجاویز پر مشتمل جامع ورکنگ پیپر تیار کیا جائے، تاکہ وفاقی حکومت کے ساتھ معاملات مربوط انداز میں اٹھائے جا سکیں اور توانائی کے مسائل کا پائیدار حل تلاش کیا جا سکے