قصور(کیو این این ورلڈ/بیوروچیف طارق نوید سندھو کی رپورٹ) طوفانی بارش سے شہر کے بیشتر علاقے زیرِ آب، ریسکیو 1122 کا آپریشن جاری، شہری ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر پھٹ پڑے
تفصیلات کے مطابق قصور شہر اور گردونواح میں ہونے والی شدید اور طوفانی بارش نے معمولاتِ زندگی مفلوج کر دیے، جبکہ شہر کے بیشتر علاقے بارش کے پانی میں ڈوب گئے۔ نشیبی علاقوں، سڑکوں اور اہم شاہراہوں پر کئی فٹ پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ متعدد مقامات پر گھروں اور دکانوں میں بھی بارش کا پانی داخل ہونے کی اطلاعات ہیں۔
بارش کے بعد مختلف علاقوں میں شہریوں کو درپیش مشکلات کے پیش نظر ریسکیو 1122 کی ٹیمیں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ ریسکیو اہلکار بارش کے پانی میں پھنسے شہریوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔
پل قتل گڑھی، کچہری روڈ اور قصور کے دیگر متاثرہ علاقوں میں صورتحال خاص طور پر سنگین دکھائی دی، جہاں بارش کا پانی سڑکوں پر جمع ہونے کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں متاثرہ شہریوں کی مدد اور پانی میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے کارروائیوں میں مصروف رہیں۔
دوسری جانب شدید بارش کے دوران ضلعی انتظامیہ کی مبینہ غیر مؤثر کارکردگی پر شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بارش سے پہلے نکاسیٔ آب کے مؤثر انتظامات نہ کیے جانے کے باعث معمولی بارش بھی بڑے مسئلے میں تبدیل ہوگئی، جبکہ طوفانی بارش کے بعد صورتحال مزید سنگین ہوگئی۔
متاثرہ شہریوں نے الزام عائد کیا کہ مشکل کی اس گھڑی میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بروقت اور مؤثر اقدامات نظر نہیں آئے اور متعدد علاقوں میں شہری اپنی مدد آپ کے تحت مشکلات سے نمٹنے پر مجبور ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ فوری طور پر تمام متعلقہ محکموں کو متحرک کرے، نکاسیٔ آب کا ہنگامی آپریشن شروع کیا جائے اور متاثرہ علاقوں سے بارشی پانی نکالنے کے لیے اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا جائے۔
شہریوں نے مزید مطالبہ کیا کہ شہر کے نشیبی علاقوں، اہم شاہراہوں، بازاروں اور رہائشی آبادیوں سے پانی کی فوری نکاسی یقینی بنائی جائے تاکہ شہریوں کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے اور بارش کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔
بارش کے باعث شہر میں بجلی، ٹریفک اور دیگر شہری سہولیات بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ شہریوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرتے ہوئے بارش کے پانی کی نکاسی، ٹریفک کی روانی اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔