قصور گردہ فروشی سیکنڈل: ماسٹر مائنڈ ڈاکٹر راشد گرفتار

قصور (کیو این این ورلڈ/بیوروچیف طارق نوید سندھو)اسٹیل باغ چوک کے قریب واقع ایک نجی ہسپتال (علامہ اقبال ہسپتال) میں مبینہ غیر قانونی گردہ پیوند کاری کے ہولناک سیکنڈل میں انتہائی اہم اور بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (PHOTA) اور پولیس کی مشترکہ تحقیقات کے دوران اس مکروہ دھندے کے ماسٹر مائنڈ ڈاکٹر محمد راشد خان کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ قصور سے ڈیل کرنے والے تین ملزمان نوید، سید عمار اور شہباز کو بھی پہلے ہی دھر لیا گیا، جس کے بعد گرفتار ملزمان کی کل تعداد 4 ہو گئی ہے جبکہ دیگر مفرور ڈاکٹروں اور ایجنٹس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کی مدعیت میں اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث 8 نامزد افراد کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر (FIR) درج کر لی گئی ہے۔ پولیس اور فوٹا کی تفتیش کے مطابق، اس بین الاضلاعی آرگن ٹریفکنگ نیٹ ورک نے لاہور کی 27 سالہ متاثرہ لڑکی سکینہ بی بی کے غیر قانونی ٹرانسپلانٹ کے لیے تقریباً 50 لاکھ روپے کی بھاری رقم وصول کی تھی۔ دوسری جانب، ایک غریب بھٹہ مزدور کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر اسے محض ساڑھے 3 لاکھ روپے کا لالچ دیا گیا اور اس کا گردہ نکال لیا گیا۔

چھاپے کے دوران انتظامیہ کو اس وقت شدید جھٹکا لگا جب آپریشن تھیٹر سے نکالا گیا انسانی گردہ ایک عام سے شاپنگ بیگ میں ڈال کر خاتون کے پرس میں چھپایا ہوا پایا گیا، جسے فوری طور پر برآمد کر لیا گیا۔ صفائی اور طبی اصولوں کے منافی کیے جانے والے اس غیر قانونی آپریشن کے باعث ٹرانسپلانٹ مکمل طور پر ناکام ہو گیا، جس سے سکینہ بی بی کی حالت تشویشناک ہو گئی۔ انہیں پہلے بابا بلھے شاہ ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، تاہم اب وہ لاہور کے سروسز ہسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہیں۔

سوشل میڈیا پر اس آپریشن کی مبینہ ویڈیوز بھی وائرل ہو چکی ہیں، جن میں نجی ہسپتال کے اندر غیر قانونی طور پر گردہ نکالنے کے مناظر صاف دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ وائرل ویڈیوز اب تحقیقاتی اداروں کے لیے اہم ترین دستاویزی ثبوت بن چکی ہیں۔ فرانزک ٹیم نے نجی ہسپتال کا تفصیلی دورہ کر کے شواہد اکٹھے کیے ہیں اور ہسپتال کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی ہولناک انکشافات کے مطابق اس بڑے مافیا نیٹ ورک میں ہسپتال انتظامیہ، ڈاکٹروں اور ایجنٹس سمیت 100 سے زائد افراد ملوث ہیں جو غریب لوگوں کے اعضاء کا سودا کر رہے تھے۔ پبلک سرکلز میں مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑا جائے تاکہ یہ کیس ماضی کی طرح فائلوں میں نہ دب سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے