اسرائیل کی فلسطینی بچوں پر بربریت: اقوامِ متحدہ نے نسل کشی اور جنگی جرائم کی تصدیق کر دی

جنیوا (کیو این این ورلڈ)اقوامِ متحدہ کے ایک آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکام اور سیکورٹی فورسز نے جان بوجھ کر فلسطینی بچوں کو نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں جنگی جرائم کا ارتکاب ہوا ہے۔ مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور اسرائیل کے بارے میں اقوامِ متحدہ کے آزاد بین الاقوامی کمیشن کے چیئرمین سری نواسن مرلیدھرن نے رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ فلسطینی بچوں کو اسرائیلی سیکورٹی فورسز نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا اور قتل کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، مئی 2017ء کے پرانے کیسز کی طرح جہاں انصاف کی فائلیں دبائی جاتی رہیں، عالمی سطح پر بھی اسرائیل جنگ بندی کے باوجود بچوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ کمیشن کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ اکتوبر 2025ء کی جنگ بندی کے بعد بھی بچوں کے قتل اور ان کو شدید زخمی کرنے کا سلسلہ تھما نہیں ہے، اور اسرائیل بین الاقوامی قانون کے تحت فلسطینی بچوں کو حاصل تحفظ اور جنگ بندی کے معاہدوں کو مسلسل ہوا میں اڑا رہا ہے۔ کمیشن، جس نے گزشتہ سال یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا مرتکب ہوا ہے، کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا منظم اور شدید سلسلہ تاحال جاری ہے جس سے بچوں کی بے مثال اموات، زخمی ہونے اور شدید ذہنی صدمات کے واقعات سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا اسرائیلی حکام کی اس نسل کشی کی نیت کو ظاہر کرتا ہے جس کا مقصد غزہ میں فلسطینیوں کو کلی یا جزوی طور پر تباہ کرنا ہے۔ شدید جسمانی اور ذہنی چوٹیں، بڑے پیمانے پر صدمات، یتیم ہونا، معذوری، بار بار نقل مکانی، بھوک افلاس اور تعلیم و صحت کے نظام کی مکمل تباہی نے غزہ میں بچوں کا بچپن چھین لیا ہے، جس کے اثرات ان کی پوری زندگی پر رہیں گے۔ مزید برآں، فلسطینی بچوں کو گرفتار کر کے اسرائیلی جیلوں اور حراستی مراکز میں تشدد اور بدترین سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور ان کے ٹھکانوں کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ اسرائیلی فورسز نے بچوں کے خلاف جنسی تشدد کو بھی اجتماعی تذلیل اور جبر کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔

ایک اور ہولناک انکشاف یہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں نوزائیدہ بچوں اور زچگی کے مراکز کو براہ راست نشانہ بنایا ہے جس سے نوزائیدہ بچوں کی بقا اور فلسطینیوں کے مستقبل کی نسل کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کی وجہ سے اسقاطِ حمل اور پیدائشی معذوری کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ محاصرے کے باعث مسلط کی گئی بھوک اور غذائی قلت بچوں کی اموات کا سبب بن رہی ہے، جبکہ حفاظتی ٹیکوں کی کمی اور تباہ شدہ صحت کے نظام کی وجہ سے بیماریوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ دوسری جانب، یتیم خانوں اور تعلیمی اداروں کی تباہی نے بچوں کی سماجی اور ذہنی نشوونما کو روک کر فلسطینی معاشرے کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

کمیشن کے چیئرمین سری نواسن مرلیدھرن کا کہنا ہے کہ اگر غزہ اور مغربی کنارے میں بم اور بندوقیں خاموش بھی ہو جائیں، تب بھی فلسطینی بچے راتوں رات اس صدمے سے باہر نہیں آ سکیں گے، کیونکہ ان کی صحت، تعلیم اور ترقی کو پہنچنے والا نقصان ناقابلِ تلافی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کو نشانہ بنا کر اسرائیل فلسطینی معاشرے کی بنیاد اور ان کی اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت پر حملہ کر رہا ہے۔ کمیشن نے اسرائیل سے ان جرائم کو فوری بند کرنے اور عالمی عدالتِ انصاف کی رائے کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم سے اپنا قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ ان جرائم میں ملوث اسرائیلی فوجی یونٹس کی بھی نشاندہی کر دی گئی ہے تاکہ ان کا احتساب کیا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے