قصور (کیو این این ورلڈ/ بیوروچیف طارق نوید سندھو) تھانہ راجہ جنگ کے نواحی گاؤں مرزے والا کا رہائشی نوجوان احسن، جو بلوچستان میں ایک ہیئرنگ سینٹر کے میڈیکل کیمپ کے سلسلے میں گیا تھا، اغوا کاروں کے ہاتھوں بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ ملزمان نے 13 دن قبل احسن کو اس کے دو ساتھیوں سمیت اغوا کیا تھا، جہاں ڈرائیور اور ہیلپر کو موقع پر ہی قتل کر دیا گیا تھا جبکہ احسن کو یرغمال بنا کر 15 کروڑ روپے تاوان طلب کیا گیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق احسن اپنے ادارے کے مالک ڈاکٹر ناصر صادق کی ہدایت پر بلوچستان میں طبی کیمپ کے لیے گیا تھا جہاں اسے نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا۔ اغوا کاروں نے اہل خانہ کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے بھاری رقم کا مطالبہ کیا تھا، تاہم تاوان کی عدم ادائیگی پر 13 دن بعد احسن کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور سفاکی کی انتہا کرتے ہوئے اس کی تصاویر لواحقین کو ارسال کر دی گئیں۔
اس المناک واقعے کے بعد مقتول کے گھر میں کہرام مچا ہوا ہے اور پورے علاقے میں شدید خوف و ہراس اور غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ شہریوں اور سماجی حلقوں نے حکومتِ وقت اور سکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان میں چھپے ان سفاک قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے نشانِ عبرت بنایا جائے۔ پولیس اور متعلقہ ادارے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ ملزمان تک رسائی حاصل کی جا سکے۔