قصور (کیو این این ورلڈ/بیورو چیف طارق نوید سندھو) ضلع قصور کے قصبہ کنگن پور کے قریب واقع گاؤں محمود خانیکے میں ایک خاندان کے پانچ افراد کی 72 گھنٹوں کے اندر ہلاکت نے علاقے میں سوگ کی فضا پیدا کر دی ہے۔ واقعے میں 55 سالہ کاشتکار قاسم علی، ان کی اہلیہ 52 سالہ حسنہ بی بی اور تین بیٹے 28 سالہ آصف علی، 25 سالہ ناظم علی اور 15 سالہ امانت علی جاں بحق ہوئے۔
مقامی پولیس اور خاندانی ذرائع کے مطابق 22 اکتوبر کو حسنہ بی بی نے ناشتے کے لیے کھیر تیار کی۔ خاندان کے پانچوں افراد نے کھیر کھائی جس کے بعد باپ اور تینوں بیٹے کھیتوں کی طرف روانہ ہو گئے۔ مونجی کی فصل کی تیاری کے دن تھے اور چاروں مرد حضرات علی الصبح کھیتوں میں کام پر چلے جاتے تھے۔دوپہر بارہ بجے کے قریب ایک کے بعد ایک فرد کی طبیعت خراب ہونے لگی۔ خاندان نے فوری طور پر ہسپتال کا رخ کرنے کے بجائے گاؤں کے ایک روحانی معالج (پیر صاحب) سے رابطہ کیا جنھوں نے دم کیا۔
حسنہ بی بی اور قاسم علی نے بعد میں پولیس کو بتایا کہ اس سے پہلے بھی بخار، سردرد یا پیٹ کی شکایت پر پیر صاحب کے دم سے صحت یابی ہو جاتی تھی۔تاہم اس بار مسلسل تین دن تک دم کروانے کے باوجود حالت بگڑتی گئی۔
25 اکتوبر کو جب طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو رشتہ دار انھیں 15 کلومیٹر دور کنگن پور ہسپتال لے گئے۔ وہاں ڈاکٹروں نے مریضوں کی حالت دیکھتے ہی انھیں ڈی ایچ کیو ہسپتال ریفر کر دیا جہاں زہر پھیلنے کی تشخیص کے بعد جنرل ہسپتال لاہور منتقل کر دیا گیا۔
25 اکتوبر کی شام لاہور پہنچنے تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ اسی رات سب سے پہلے 25 سالہ ناظم علی انتقال کر گئے۔ باقی افراد کو وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا۔ اگلے دن 26 اکتوبر کو 28 سالہ آصف علی اور 15 سالہ امانت علی بھی جاں بحق ہو گئے۔ 27 اکتوبر کو قاسم علی بھی دورانِ علاج چل بسے جبکہ 28 اکتوبر کو گاؤں میں تین لاشوں کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کی جا رہی تھی تو اطلاع ملی کہ حسنہ بی بی بھی وفات پا چکی ہیں۔
ڈی پی او قصور آفتاب احمد پھلروان نے بتایا کہ اب تک کی تفتیش کے مطابق بظاہر یہ واقعہ حادثہ معلوم ہوتا ہے۔ پولیس نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 174 کے تحت کارروائی مکمل کر لی ہے اور چار لاشوں کا پوسٹ مارٹم کروا لیا گیا ہے۔ کھیر اور لاشوں کے نمونے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی لاہور بھجوا دیے گئے ہیں۔ حتمی رپورٹ آنے کے بعد ہی قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
تھانہ کنگن پور کے ایس ایچ او وحید عارف نے بتایا کہ قاسم علی اور حسنہ بی بی سے ہسپتال میں بات چیت کی گئی تھی۔ دونوں نے کہا کہ ان کی کسی سے دشمنی نہیں تھی اور ناشتے میں صرف کھیر ہی کھائی گئی تھی۔ یہ سادہ لوح دیہاتی خاندان تھا جو چھوٹی موٹی بیماری پر عموماً پیر صاحب سے دم کروا لیتا تھا۔ تین دن بعد جب حالت شدید خراب ہوئی تو ہسپتال پہنچے مگر اس وقت تک زہر پورے جسم میں پھیل چکا تھا۔
گاؤں کے رہائشی رانا جہانگیر کے مطابق ابتدائی طور پر کھیر میں چھپکلی گرنے کا ذکر نہیں ہوا تھا تاہم بعد میں قاسم علی نے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ڈاکٹروں کو بتایا تھا کہ کھیر میں چھپکلی گری تھی جسے انھوں نے نکال کر پھینک دیا اور ارد گرد کی کھیر بھی ضائع کر دی تھی۔ اس کے بعد باقی کھیر کھائی گئی۔
خاندانی رشتہ دار عبداللہ کھرل نے کہا کہ قاسم علی سادہ اور نڈر انسان تھے جو اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔ ان کے مطابق ایک چھپکلی میں اتنا زہر کیسے ہو سکتا ہے کہ پانچ افراد جان سے چلے جائیں؟ پولیس کو چاہیے کہ مکمل چھان بین کرے۔
گاؤں محمود خانیکے دریائے ستلج کے بالکل قریب کچے کے علاقے میں واقع ہے۔ یہاں طبی اور تعلیمی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ متاثرہ خاندان کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی زندہ ہیں کیونکہ وہ شادی شدہ تھے اور الگ رہائش رکھتے تھے۔
پنجاب کے وزیر قانون رانا محمد اقبال خان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر قصور سے رپورٹ طلب کر لی ہے اور مکمل تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔ پولیس فرانزک رپورٹس کا انتظار کر رہی ہے جس کے بعد حتمی نتیجہ سامنے آ سکے گا۔
