کیمبل پور میں افسانوی ادب کی خوب صورت نشست، معروف افسانہ نگاروں کی تخلیقات پیش

اٹک (کیو این این ورلڈ /ڈاکٹر شجاع اختر اعوان) اکادمی ادبیات کیمبل پور کے زیرِ اہتمام صاحبِ اسلوب افسانہ نگار ارشاد علی کی صدارت میں ’’شامِ افسانہ‘‘ کے عنوان سے ایک خوب صورت ادبی نشست منعقد ہوئی، جس میں معروف ادبی شخصیت مشتاق عاجز نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ نشست میں اردو افسانے کی فنی و فکری جہات، تخلیقی اسلوب اور ادبی اہمیت پر گفتگو کی گئی، جبکہ معروف افسانہ نگاروں نے اپنی تخلیقات بھی پیش کیں۔

رپورٹ کے مطابق ادبی نشست کا بنیادی محور اردو افسانہ اور اس کے مختلف فنی و فکری پہلو تھے۔ اس موقع پر احسان بن مجید نے اپنا افسانہ ’’کل صبح کی بات‘‘ پیش کیا، جبکہ پروفیسر سید نصرت بخاری نے ’’بھوت‘‘ کے عنوان سے اپنا افسانہ سامعین کے سامنے پیش کیا۔ دونوں افسانے اپنے موضوع، اندازِ بیان اور دلچسپ بیانیے کے باعث حاضرین کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔ شرکا نے دونوں تخلیقات نہایت انہماک اور دلچسپی سے سنیں۔


نشست کا اہم مرحلہ صدرِ محفل ارشاد علی کی گفتگو تھی، جنہوں نے اردو افسانے کی اصل ماہیت، فنی تقاضوں اور تخلیقی جوہر پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے افسانے میں معنوی گہرائی، مشاہدے کی اہمیت اور فنِ افسانہ نگاری کے بنیادی عناصر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایک مؤثر افسانہ انسانی تجربات، احساسات اور معاشرتی حقائق کو فنکارانہ انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تقریب میں مہمانِ خصوصی مشتاق عاجز کے علاوہ ملک محسن عباس، طاہر اسیر، سید مونس رضا شاہ، صدر اکادمی ادبیات احمد علی ثاقب، ڈاکٹر شجاع اختر اعوان، حسین امجد، راجہ زاہد حسین، راجہ مختیار سگھروی، صبا صحرا سمیت دیگر اہلِ قلم اور ادب دوست شخصیات نے شرکت کی۔

شرکا کا کہنا تھا کہ ایسی ادبی نشستیں نہ صرف مطالعے اور تخلیقی اظہار کے ذوق کو فروغ دیتی ہیں بلکہ اہلِ قلم کو ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنے اور ادبی روابط مضبوط بنانے کا موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔

’’شامِ افسانہ‘‘ ایک بامقصد ادبی سرگرمی ثابت ہوئی، جس نے افسانوی ادب کے مطالعے، سماعت اور تنقیدی شعور کی روایت کو تقویت دی۔ اکادمی ادبیات کیمبل پور کی یہ کاوش شہر کی ادبی سرگرمیوں کے فروغ اور اردو زبان و ادب کی ترویج کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے