وفاق ہمیں کچھ نہیں دے رہا، یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے، گورنر خیبرپختونخوا کا طبی کانفرنس سے خطاب

پشاور (کیو این این ورلڈ) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے، ہاؤس آفیسرز کی 70 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ بہت کم ہے، اس معاملے پر نظرثانی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے صوبے کو کچھ نہیں دیا جا رہا، اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے، پنجاب اور سندھ کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی صحت کی سہولیات بہتر بنانے پر توجہ دینا ہوگی۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے ان خیالات کا اظہار پاکستان ایسوسی ایشن آف یورولوجیکل سرجنز کی سالانہ کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ طبی کانفرنسز علم و تحقیق کے فروغ، تجربات کے تبادلے اور جدید طریقہ علاج سے آگاہی کا اہم ذریعہ ہیں۔ طبی اداروں اور ماہرین کو جدید عالمی معیار سے ہم آہنگ ہونا ہوگا تاکہ پاکستان کے مریض بھی جدید طبی سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع، جنوبی اضلاع اور دور دراز علاقوں میں معیاری اور خصوصی طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ضروری ہے۔ معیاری علاج صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ہر شہری کو یکساں طبی سہولیات تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔

گورنر کا کہنا تھا کہ صحت کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری، جدید طبی آلات کی فراہمی، ڈاکٹروں کی تربیت اور طبی تحقیق کے فروغ پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان ایسوسی ایشن آف یورولوجیکل سرجنز جیسی پیشہ ورانہ تنظیمیں ڈاکٹروں کی استعداد کار بڑھانے، نوجوان طبی ماہرین کی تربیت اور سرکاری ہسپتالوں کے ساتھ اشتراک کے ذریعے نظامِ صحت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

انہوں نے طبی شعبے سے وابستہ افراد کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز مشکل حالات میں بھی انسانی جانیں بچانے اور دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ طبی ماہرین کے پیشہ ورانہ وقار کا تحفظ اور انہیں ضروری وسائل و سہولیات فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ سرکاری و نجی اداروں کے درمیان تعاون اور بین الاقوامی طبی و تعلیمی روابط کو فروغ دے کر عالمی تجربات سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ کانفرنس میں ہونے والی علمی و تحقیقی گفتگو اور تجربات کا تبادلہ صحت کے شعبے میں عملی بہتری کا ذریعہ بنے گا۔ انہوں نے کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر پروفیسر ڈاکٹر لیاقت اور آرگنائزنگ کمیٹی کو مبارکباد بھی پیش کی۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ سابقہ حکومت کے اچھے اقدامات کو برقرار رکھا جائے گا اور صحت کے شعبے میں موجود خامیوں اور کمیوں کو دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ ہماری نوجوان نسل ہمارا مستقبل ہے، اسے سپورٹ کرنا ہوگا، کیونکہ نوجوانوں کی مدد اور رہنمائی کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔

انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کی سابقہ صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے صوبے میں کوئی نیا ہسپتال تعمیر نہیں کیا۔ اب صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے محض اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

گورنر نے صوبے میں سرمایہ کاری کے حوالے سے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سرمایہ کاروں کو مستحکم اور سازگار ماحول فراہم کرنا ضروری ہے۔ صوبے میں سرمایہ کاری کے لیے آنے والوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ سرمایہ کاری کو فروغ ملے اور صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔

فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ ہمیں ایک بدلتے، نکھرتے اور مضبوط خیبرپختونخوا کی جانب بڑھنا ہے، جس کے لیے تمام شعبوں میں مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے