جمرود میں پی ٹی آئی کارکنوں کی پرہجوم پریس کانفرنس، تنظیمی و ترقیاتی امور پر تحفظات کا اظہار

خیبر (کیو این این ورلڈ /بیورو رپورٹ) پاکستان تحریک انصاف کے سینئر اور جونیئر کارکنان نے جمرود پریس کلب میں پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے پارٹی امور، تنظیمی معاملات، ترقیاتی منصوبوں اور کارکنوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کارکنان نے پارٹی امور میں شفافیت، میرٹ، باہمی مشاورت اور تمام کارکنوں کو یکساں عزت و مقام دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہفتے کے روز احتجاجی کیمپ لگانے کا اعلان کیا ہے۔

پریس کانفرنس میں شریک کارکنان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے قیام سے لے کر اب تک مختلف مشکل حالات میں سینئر اور جونیئر کارکنوں نے پارٹی کے لیے قربانیاں دیں اور ہر مشکل وقت میں قیادت کا ساتھ دیا، تاہم ان کے بقول گزشتہ 13 برس، بالخصوص 2024 کے بعد، دیرینہ کارکنوں کو پارٹی مشاورت، تنظیمی معاملات اور ترقیاتی امور میں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

کارکنان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران دیرینہ کارکنوں کے ساتھ کوئی مؤثر میٹنگ یا باقاعدہ مشاورتی عمل نہیں کیا گیا، جبکہ ایسے افراد کو اہمیت دی جا رہی ہے جنہوں نے مشکل حالات میں پارٹی کا ساتھ نہیں دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دیرینہ کارکنوں کو اعتماد میں لیا جائے، ان کے مسائل سنے جائیں اور انہیں پارٹی فیصلہ سازی میں مناسب نمائندگی دی جائے۔

پریس کانفرنس کے دوران ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ غیر شفافیت اور اقربا پروری پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کارکنان نے الزام عائد کیا کہ متعدد ترقیاتی کام میرٹ اور حقیقی ضرورت کے بجائے سفارش، اقربا پروری اور غیر متعلقہ افراد کی مداخلت کی بنیاد پر کیے گئے، جبکہ بعض منصوبوں کے حوالے سے رشوت اور بھتہ طلب کیے جانے کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ انہوں نے ان الزامات کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

شرکاء نے ٹھیکیداروں سے مبینہ کمیشن کے معاملات پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض کارکنوں یا عہدیداروں کے بارے میں کمیشن لینے کے الزامات سامنے آنے کے باوجود وہ پارٹی قیادت کے بعض قریبی حلقوں میں موجود ہیں۔ کارکنان کے مطابق ایسے عناصر کی موجودگی سے پارٹی، حلقے اور صوبائی حکومت کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے، اس لیے مبینہ بدعنوانی میں ملوث افراد کے خلاف تحقیقات اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

کارکنان نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ بعض افراد مختلف سرکاری محکموں میں خود کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا نمائندہ یا قریبی شخص ظاہر کرکے افسران پر دباؤ ڈالتے اور جائز و ناجائز کام کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے افراد کو سرکاری محکموں میں مبینہ مداخلت سے روکا جائے۔

پریس کانفرنس میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ بعض افراد عوام کو سرکاری ملازمتیں دلانے کا جھانسہ دے کر مبینہ طور پر لاکھوں روپے وصول کر رہے ہیں۔ کارکنان نے مطالبہ کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف شکایات کی تحقیقات کرکے ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

شرکاء نے این سی اور وی سی کی سطح پر زکوٰۃ اور دیگر امور کے لیے قائم کمیٹیوں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کمیٹیوں پر نظرثانی کی جائے، دیرینہ اور فعال پارٹی کارکنوں کو نمائندگی دی جائے اور غیر متعلقہ افراد کو عہدوں سے ہٹایا جائے۔

تحصیل جمرود کی تنظیمی کابینہ کے حوالے سے کارکنان نے مطالبہ کیا کہ کابینہ سلیکشن کے بجائے باقاعدہ انتخابات کے ذریعے تشکیل دی جائے اور تمام کارکنوں سے مشاورت کی جائے، تاکہ پارٹی آئین و منشور کے مطابق ایک منظم اور بااختیار کابینہ قائم ہو سکے۔

کارکنان نے تحصیل جمرود میں گروپ بندی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2024 کے انتخابات کے دوران گروپ بندی ختم ہوگئی تھی، تاہم بعد ازاں فوکل پرسن کے انتخاب سمیت دیگر معاملات میں سینئر کارکنوں کو اعتماد میں نہ لینے سے اختلافات دوبارہ پیدا ہوئے۔ ان کے مطابق اس صورتحال کے نتیجے میں پارٹی مختلف گروپوں میں تقسیم ہوئی، جس سے کارکنوں میں مایوسی پیدا ہوئی اور پارٹی کی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔

انہوں نے پارٹی قیادت سے مطالبہ کیا کہ تمام سینئر اور جونیئر کارکنوں کو بلا کر اختلافات ختم کیے جائیں اور ہر کارکن کو یکساں عزت و مقام دیا جائے۔

27 ستمبر کی مجوزہ اسٹریٹ موومنٹ اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے حوالے سے کارکنان نے کہا کہ تمام این سی اور وی سی کی سطح پر کارکنوں کے اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔ انہوں نے پارٹی قیادت سے مطالبہ کیا کہ کارکنوں کو یقین دلایا جائے کہ قیادت اس بار فرنٹ لائن پر موجود رہے گی اور کارکنوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ کارکنان نے کہا کہ وہ عمران خان کی رہائی کے لیے پارٹی کے ساتھ کھڑے تھے، کھڑے ہیں اور آئندہ بھی کھڑے رہیں گے۔

کارکنان نے این سی اور وی سی کی سطح پر ترقیاتی منصوبوں کے لیے تمام کارکنوں کے مشترکہ واٹس ایپ گروپس تشکیل دینے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر سرگرمی یا منصوبے سے متعلق معلومات ایک یا دو روز قبل شیئر کی جائیں تاکہ کارکن بروقت آگاہ ہوسکیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ترقیاتی کام متعلقہ علاقے کی حقیقی ضروریات اور آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں اور ایک این سی یا وی سی کے معاملات میں دوسری وی سی کے کارکنوں کی غیر ضروری مداخلت ختم کی جائے۔

پریس کانفرنس میں تحصیل جمرود اور تحصیل باڑہ کے درمیان ترقیاتی منصوبوں کی تقسیم پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کارکنان نے دعویٰ کیا کہ جمرود کے مقابلے میں باڑہ میں زیادہ ترقیاتی کام جاری ہیں، جبکہ جمرود کے متعدد منصوبے تاحال نامکمل ہیں۔ انہوں نے ترقیاتی منصوبوں کی تقسیم ووٹ، آبادی اور حقیقی ضرورت کے تناسب سے کرنے کا مطالبہ کیا اور اس حوالے سے شفاف طریقہ کار اپنانے پر زور دیا۔

شرکاء نے سرکاری ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیوں اور جعل سازی کے الزامات بھی عائد کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض محکموں کے افسران، ایکسین اور ایس ڈی اوز مبینہ طور پر ٹینڈرز سے قبل مخصوص ٹھیکیداروں سے رابطے میں رہتے ہیں اور مخصوص ٹھیکیداروں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

کارکنان نے مزید الزام عائد کیا کہ بعض منصوبوں میں کام کی مقدار، معیار اور پیمائش کے برعکس مبینہ طور پر زائد بل بنائے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں ناقص تعمیرات معمولی بارش کے بعد ہی متاثر ہوجاتی ہیں۔

پی ٹی آئی کارکنان نے مطالبہ کیا کہ تمام ترقیاتی منصوبوں، ٹینڈرز، پیمائش، بلوں اور فنڈز کے استعمال کا شفاف اور غیر جانب دارانہ آڈٹ کرایا جائے اور اگر کسی فرد یا افسر کے خلاف بدعنوانی یا بے ضابطگی ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

آخر میں کارکنان نے پارٹی قیادت پر زور دیا کہ عمران خان کی جانب سے کرپشن، اقربا پروری اور ناانصافی کے خلاف قائم کیے گئے سیاسی پلیٹ فارم کو مضبوط بنانے کے لیے کارکنوں کو فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے، تنظیمی اختلافات ختم کیے جائیں اور پارٹی امور میں شفافیت، میرٹ اور باہمی مشاورت کو یقینی بنایا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *