خیبر (کیو این این ورلڈ /نامہ نگار نورحلیم آفریدی) خیبر یونین آف جرنلسٹس نے ضلع کرم سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ملک فخر زمان کی جانب سے صحافی ریحان محمد کو موبائل فون پر مبینہ طور پر گالم گلوچ، ہتک آمیز رویے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کی شدید مذمت کی ہے۔ یونین نے حکومت خیبر پختونخوا اور پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی و صوبائی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مبینہ طرزِ عمل کا جائزہ لیا جائے اور قانون و پارٹی ضابطہ اخلاق کے مطابق کارروائی کی جائے۔
خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر کاشف الدین سید، جنرل سیکرٹری ارشاد علی اور دیگر عہدیداروں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ صحافی ریحان محمد کے مطابق ملک فخر زمان نے ان پر سوشل میڈیا کے ذریعے غلط اور گمراہ کن معلومات نشر کرنے کے الزامات عائد کیے۔ تاہم جب صحافی نے الزامات کی وضاحت اور ثبوت طلب کیے تو مبینہ طور پر سابق رکن قومی اسمبلی نے فون پر غیر اخلاقی گالم گلوچ کی اور دھمکی آمیز لہجے میں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔
صدر خیبر یونین آف جرنلسٹس کاشف الدین سید نے کہا کہ کسی بھی شخص کو کسی صحافی کی خبر یا سوشل میڈیا مواد پر اعتراض ہو تو وہ قانون اور متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کا حق رکھتا ہے، تاہم جان سے مارنے کی دھمکی، گالم گلوچ، تضحیک یا دباؤ کے ذریعے صحافی کو پیشہ ورانہ فرائض سے روکنے کی کوشش کسی صورت قابل قبول نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ خیبر یونین آف جرنلسٹس اپنے ہر رکن کی جان، عزت، پیشہ ورانہ وقار اور آزادیٔ صحافت کے تحفظ کے لیے ہر قانونی اور آئینی فورم پر آواز اٹھائے گی اور صحافیوں کو دھمکانے یا ہراساں کرنے کے کسی بھی اقدام پر خاموش نہیں رہے گی۔
کاشف الدین سید نے مزید کہا کہ سابق رکن قومی اسمبلی ملک فخر زمان صحافی ریحان محمد کے خلاف عائد کیے گئے الزامات کے ثبوت پیش کریں یا اپنے طرزِ عمل کی وضاحت کریں۔ ان کے مطابق اختلافِ رائے یا کسی خبر پر اعتراض کا جواب دھمکی یا دباؤ نہیں بلکہ قانونی طریقہ کار کے ذریعے دیا جانا چاہیے۔
خیبر یونین آف جرنلسٹس نے واضح کیا کہ صحافی ریحان محمد کو کسی بھی قسم کا جانی یا مالی نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری ان مبینہ دھمکیوں کے ذمہ دار افراد پر عائد ہوگی، جس میں سابق رکن قومی اسمبلی ملک فخر زمان بھی شامل ہیں۔ یونین نے کہا کہ وہ اس معاملے کو ہر متعلقہ قانونی و حکومتی فورم پر اٹھائے گی۔
یونین نے حکومت خیبر پختونخوا اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کو دھمکیوں اور دباؤ سے تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ کسی خوف یا دباؤ کے بغیر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔
صدر خیبر یونین آف جرنلسٹس نے حکومت سمیت پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی و صوبائی قیادت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اپنے رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی ملک فخر زمان کے مبینہ طرزِ عمل کا جائزہ لیں اور قانون و پارٹی ضابطہ اخلاق کے مطابق کارروائی عمل میں لائیں۔
کاشف الدین سید نے واضح کیا کہ اگر سابق رکن قومی اسمبلی ملک فخر زمان کے خلاف مبینہ دھمکیوں کے معاملے پر کوئی کارروائی عمل میں نہ لائی گئی تو خیبر یونین آف جرنلسٹس معاملے کو متعلقہ قانونی اور حکومتی فورمز پر اٹھانے کے ساتھ ساتھ صوبہ بھر میں احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے۔