جمرود پریس کلب میں قبائلی مشران کی پرہجوم پریس کانفرنس

خیبر (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار) ضلع خیبر کی تحصیل جمرود کے پریس کلب میں فاٹا لویہ جرگہ کے زیر اہتمام ایک پرہجوم اور اہم پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں قبائلی مشران نے فاٹا انضمام کے خلاف اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے قبائلی علاقوں کی سابقہ آئینی و انتظامی حیثیت فوری طور پر بحال کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ پریس کانفرنس میں صدر فاٹا لویہ جرگہ بسم اللہ خان قبائلی، ملک خان مرجان وزیر (شمالی وزیرستان)، ملک پرنسپل نور زمان آدم خیل، فاٹا لویہ جرگہ کے جنرل سیکریٹری اعظم خان محسود، ملک عبدالرزاق زخہ خیل، ملک اسراراللہ، ملک زاہد شاہ شلوبر قمبر خیل، ملک انعام منیا خیل، حاجی نقاب شاہ، حاجی صفت شاہ، حاجی رحیم، حاجی موسیٰ خان سمیت قبائلی مشران اور کشران کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قبائلی مشر ملک خان مرجان وزیر نے کہا کہ وفاقی حکومت 28ویں آئینی ترمیم کے تحت آرٹیکل 246 اور 247 کے خاتمے کے فیصلے کو فوری واپس لے اور قبائلی عوام کی پرانی حیثیت بحال کی جائے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی دیگر صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی طرح قبائلی اضلاع کی ترقی اور فنڈز کی فراہمی پر خصوصی توجہ دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی علاقوں میں امن و امان کے قیام کے لیے مشران کو کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے کیونکہ یہاں امن کی کنجی افغانستان کی صورتحال سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فاٹا انضمام کے خلاف عدالت میں کیس زیر سماعت ہے، تاہم کئی برس گزرنے کے باوجود اعلیٰ عدالتوں میں اس کی باقاعدہ سماعت نہ ہونا قبائلی عوام کے لیے باعث تشویش اور مایوسی ہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے سینیٹر نورالحق قادری کو وفاق اور عسکری قیادت سے مذاکرات کے لیے جس جرگہ کی تشکیل کا ٹاسک دیا تھا، اس پر تاحال کوئی عملی پیشرفت سامنے نہیں آئی۔

فاٹا لویہ جرگہ کے صدر بسم اللہ خان قبائلی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا انضمام قبائلی عوام کے ساتھ ایک “ظالمانہ فیصلہ” تھا جسے وہ کسی صورت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت اور عسکری قیادت سے مطالبہ کیا کہ قبائلی عوام کی آزادانہ حیثیت بحال کی جائے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں اور اس سلسلے میں بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کے احکامات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ فاٹا لویہ جرگہ کے جنرل سیکرٹری اعظم خان محسود نے قبائلی نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں کی جانب سے پھیلائے جانے والے پروپیگنڈوں سے خود کو محفوظ رکھیں اور ایف سی آر اور ایف آئی آر کے نظام میں فرق کو سمجھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایف سی آر کو برطانوی دور کا قانون کہا جاتا ہے تو ملک میں رائج ایف آئی آر کا نظام بھی اسی دور کا ہے، جبکہ ایف سی آر قبائلی رسم و رواج اور روایات کے عین مطابق تھا۔ وہ ایف سی آر کی بعض شقوں میں اصلاحات کے حامی تھے لیکن موجودہ طرز پر انضمام انہیں قبول نہیں، بلکہ وہ پہلے آزاد حیثیت کی بحالی چاہتے ہیں جس کے بعد قبائلی عوام مل بیٹھ کر خود فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی پس منظر رکھنے والے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے بہت توقعات تھیں لیکن وہ ان پر پورا نہیں اتر سکے، جس سے مایوسی پھیلی ہے۔

پریس کانفرنس سے ملک اسرار کوکی خیل، نوابزادہ فضل کریم، حاجی انعام، ملک عبدالرزاق، حاجی نقاب شاہ، حاجی رحیم، حاجی موسیٰ اور پرنسپل نور زمان نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے واضح کیا کہ اگر ایف سی آر انگریزوں کا قانون ہے تو ملک کا موجودہ قانونی نظام بھی لارڈ میکالے کے بنائے ہوئے قوانین پر مشتمل ہے، لہٰذا ملک میں اسلامی اصولوں کے مطابق قوانین نافذ ہونے چاہئیں۔ انہوں نے متفقہ طور پر کہا کہ فاٹا انضمام قبائلی عوام کی امنگوں کے سراسر خلاف ہے جس کے بعد خطے کے مسائل اور مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے، اس لیے اس انضمام کا فوری خاتمہ کر کے قبائلی عوام کو ان کے مستقبل کے فیصلے کا حق دیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے