ایران معاہدہ سبوتاژ کرنے کے لیے اسرائیلی عناصر نے بھاری سرمایہ خرچ کیا، امریکی نائب صدر

واشنگٹن (کیو این این ورلڈ)امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے اسرائیلی حکومت کے بعض عناصر کی جانب سے مبینہ طور پر سازشیں کی گئیں اور اس مقصد کے لیے امریکا میں اثرورسوخ کی مہم پر بھاری سرمایہ خرچ کیا گیا۔

ایک انٹرویو کے دوران جے ڈی وینس نے ایران میں امریکی زمینی فوج بھیجنے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ تنازع کے مستقل حل کے لیے فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی ذرائع اور مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی حکومت سے وابستہ بعض عناصر نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے امریکا میں ایک منظم مہم چلائی، تاہم ایسی کوششوں کے باوجود امریکی انتظامیہ اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھے گی اور خارجہ پالیسی کے فیصلے امریکی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔

امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کا پائیدار حل جنگ یا فوجی مداخلت نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارتی معاہدے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ایران میں حکومت کی تبدیلی کے مقصد سے زمینی فوج نہیں بھیجے گا۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ اگر ایرانی عوام اپنے سیاسی نظام میں کسی قسم کی تبدیلی چاہتے ہیں تو یہ ان کا داخلی معاملہ اور ان کا اپنا فیصلہ ہوگا۔ امریکا کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی پالیسی پر عمل نہیں کر رہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کی اہم ترجیحات میں آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا اور عالمی منڈیوں تک تیل و گیس کی بلا تعطل ترسیل کو یقینی بنانا شامل ہے، کیونکہ اس آبی گزرگاہ کی بندش عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

امریکی نائب صدر کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور سفارتی سرگرمیوں پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے