تہران، بندرعباس اور دیگر شہروں میں دھماکے، ایران نے امریکی اہداف پر حملوں کا دعویٰ کر دیا

تہران/اربیل (کیو این این ورلڈ) ایران کے مختلف شہروں میں امریکی حملوں کی اطلاعات کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی، جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے عراق میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق تہران اور بندرعباس سمیت مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، تاہم ابتدائی طور پر دھماکوں کی نوعیت واضح نہیں ہو سکی۔ مغربی تہران میں ممکنہ حملوں کے خطرے کے پیش نظر فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق امریکی حملوں کے بعد تہران، بندرعباس، میناب، سیرک اور جزیرہ کیش میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جبکہ صوبہ فارس اور مغربی تہران میں فضائی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔ بعد ازاں ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ خلیج میں جاری جھڑپوں کے باعث دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں اور کیش و قشم جزائر میں کسی دھماکے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ایران میں متعدد اہداف کے خلاف اضافی حملے شروع کیے گئے ہیں اور مختلف مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ امریکہ ایران میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنائے گا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے خلاف مزید کارروائیوں کا عندیہ دیا تھا۔

ادھر ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی ممکنہ جنگ سے خوفزدہ نہیں اور اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کے اثرات پورے خطے تک محدود نہیں رہیں گے۔

امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے عراق کے شہر اربیل میں امریکی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔

ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے ایک ایف-16 جنگی طیارے پر میزائل داغا گیا جس کے بعد طیارہ واپس جانے پر مجبور ہو گیا۔

ایرانی فوجی قیادت کے مطابق امریکی حملوں کے بعد جوابی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ ایرانی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے اور آئل ٹینکرز و تجارتی جہازوں کی آمدورفت معطل کر دی گئی ہے۔

ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ بعض ایرانی ذرائع نے دو بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق نہیں ہو سکی۔

دریں اثنا ممکنہ جوابی کارروائیوں کے خدشات کے باعث پورے خطے میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق حساس علاقوں میں سائرن بجائے گئے جس کے بعد شہری بڑی تعداد میں زیر زمین شیلٹرز کی جانب منتقل ہوئے اور دفاعی نظام کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔

بحرین میں بھی سائرن بجنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بحرینی وزارت داخلہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں شہریوں کو پرسکون رہنے اور قریبی محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب کویت میں گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران کسی ایئر ریڈ سائرن کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے