تھرپارکر (کیو این این ورلڈ/مشتاق علی لغاری) تھرپارکر کی تحصیل ڈاہلی کے گاؤں بنگل رند (بھگل رند) میں ایک اونٹنی کی آنکھیں نکالنے کے مبینہ واقعے نے علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ متاثرہ جانور کے مالک سارنگ میگھواڑ نے الزام عائد کیا ہے کہ رند برادری سے تعلق رکھنے والے بعض افراد نے مبینہ طور پر اونٹنی کو تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اس کی دونوں آنکھیں شدید متاثر ہوئیں۔متاثرہ جانور ایک اونٹنی (مقامی زبان میں ڈاچی) ہے
مقامی ذرائع کے مطابق واقعہ 8 اور 9 جون 2026 کے دوران پیش آیا۔ متاثرہ اونٹنی کو انتہائی تشویشناک حالت میں پایا گیا، جس کے بعد علاقے کے مکینوں کی بڑی تعداد موقع پر پہنچ گئی اور واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔
متاثرہ فریق کا مؤقف ہے کہ اونٹنی پر مبینہ تشدد کسی ذاتی تنازع یا بدلے کے پس منظر میں کیا گیا۔ متاثرہ خاندان اور میگھواڑ برادری کے رہنماؤں نے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی اور فوری انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔
واقعے کے بعد علاقے میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے، جبکہ جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکنوں اور مختلف سماجی حلقوں نے اس مبینہ سفاکانہ عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے اور تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ پولیس کے مطابق مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ بعض نامزد ملزمان کو حراست میں لینے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اونٹنی کا علاج جاری ہے اور اس کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور شواہد کی روشنی میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
واضح رہے کہ اونٹنی کی آنکھیں نکالنے اور تشدد کے الزامات اس وقت زیرِ تفتیش ہیں۔ نامزد افراد کا تفصیلی مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واقعے کے تمام حقائق واضح ہو سکیں گے۔