واشنگٹن/اسلام آباد/تہران/جارجیا: (کیو این این ورلڈ) ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی، جنگ بندی اور مذاکرات کے تناظر میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آئندہ دو روز میں مذاکرات کے اگلے دور کے پاکستان میں انعقاد کا امکان ظاہر کیا ہے تو دوسری جانب عالمی سطح پر سفارتی رابطے بھی تیز ہو گئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک امریکی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا اگلا دور آئندہ دو روز میں پاکستان میں ہو سکتا ہے اور امریکا اس کے لیے کافی مائل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا انتخاب اس لیے اہم ہے کیونکہ وہاں کی عسکری قیادت بالخصوص فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کارکردگی متاثر کن رہی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق گزشتہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھی رابطوں کے ذریعے چند ہی دنوں میں امن ممکن بنایا گیا تھا جس میں امریکا نے کردار ادا کیا۔
امریکی صدر نے عندیہ دیا کہ امریکی میڈیا کو پاکستان میں موجود ہونا چاہیے کیونکہ آئندہ دنوں میں اہم پیش رفت متوقع ہے۔ دلچسپ طور پر ٹرمپ نے ابتدا میں امریکی وفد کے پاکستان جانے کی تردید کی، تاہم بعد ازاں دوبارہ رابطہ کر کے مذاکرات کے امکان کی تصدیق کر دی۔
ادھر پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے مشاہد حسین سید اور سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا کہ اگر ایران امریکا مذاکرات کامیاب ہو گئے تو صدر ٹرمپ خود معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے اسلام آباد آ سکتے ہیں اور وہ یہ ذمہ داری نائب صدر کو نہیں دیں گے۔
دوسری جانب امریکی صدر نے فاکس نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے اور ایران کسی نہ کسی صورت معاہدہ کرنا چاہتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کسی سمجھوتے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے یونیورسٹی آف جارجیا میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان دہائیوں پر محیط بداعتمادی فوری ختم نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ تقریباً 49 سال بعد اس سطح کے مذاکرات ہو رہے ہیں اور صدر ٹرمپ کسی عارضی نہیں بلکہ جامع اور دیرپا معاہدہ چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں ہونے والی بات چیت میں پیش رفت ضرور ہوئی ہے تاہم حتمی ڈیل ابھی باقی ہے۔
جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ مجوزہ معاہدے کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور خطے میں اس کی مداخلت کو محدود کرنا ہے، جبکہ کامیاب معاہدے کی صورت میں ایران کو عالمی معیشت میں شامل ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔ انہوں نے موجودہ صورتحال پر محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی برقرار ہے جو مثبت اشارہ ہے۔
ادھر عالمی میڈیا کے مطابق ایران بھی پاکستان میں مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے آمادہ دکھائی دیتا ہے۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور وزیر خارجہ نے مذاکرات کی بحالی پر آمادگی ظاہر کی ہے جبکہ اطلاعات ہیں کہ ایرانی حکام تکنیکی ٹیم کے ساتھ امریکی نمائندوں سے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔
عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے امریکی صدر ٹرمپ اور ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطے کر کے مذاکرات کی بحالی پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کا واحد حل مذاکرات ہیں، جبکہ لبنان کو بھی جنگ بندی میں شامل کرنے اور آبنائے ہرمز کو غیر مشروط طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا۔ مزید برآں برطانیہ کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی کے لیے بین الاقوامی کانفرنس بلانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
دریں اثنا آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار ہے جہاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے بعد کسی جہاز کو گزرنے نہیں دیا گیا اور متعدد تجارتی جہازوں نے راستہ تبدیل کیا۔ تاہم اس کے برعکس بی بی سی ویریفائی سمیت دیگر رپورٹس میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایران سے منسلک چار جہاز آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
رپورٹس کے مطابق کچھ جہازوں نے اپنی اصل لوکیشن چھپانے کے لیے GPS اسپوفنگ کا استعمال کیا جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز سے عالمی تیل کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے اور موجودہ کشیدگی کے باعث جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے جو عالمی معیشت کے لیے خطرے کی علامت ہے۔
مجموعی طور پر ایران امریکا کشیدگی میں ایک طرف جنگ بندی برقرار ہے تو دوسری جانب پاکستان میں ممکنہ مذاکرات، عالمی سفارتکاری اور بحری صورتحال نے خطے کو انتہائی حساس مگر فیصلہ کن مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔