اسلام آباد/واشنگٹن/تہران (کیو این این ورلڈ)امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف فضائی حملوں کا ایک نیا مرحلہ شروع کر دیا ہے، جبکہ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
سینٹکام کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی افواج نے ایران پر اضافی فضائی حملے شروع کیے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہازوں کو درپیش خطرات کو کم کرنا اور ایران کی ان عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنانا ہے جو مبینہ طور پر بحری جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی افواج ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کی تیاری بھی کر رہی ہیں، جس کا مقصد خطے میں بحری نقل و حمل کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں موجود متعدد امریکی فوجی تنصیبات، اسلحہ ذخیرہ گاہوں اور فوجی مراکز کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی بیان کے مطابق بحرین میں اسلحہ ذخیرہ کرنے والے ہینگرز اور کویت میں امریکی ڈرونز کی تعیناتی کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد ڈرونز تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے۔
پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی جارحیت کا جواب اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک امریکا اپنی فوجی کارروائیاں بند نہیں کرتا۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر مزید حملے کیے گئے تو اس سے زیادہ سخت اور غیر متوقع جواب دیا جائے گا۔
ایرانی فوج نے ایک اور بیان میں دعویٰ کیا کہ کویت میں امریکی فوج کے مواصلاتی نظام، ایندھن کے ذخائر، پیٹریاٹ دفاعی نظام، کنٹرول ٹاور، گولہ بارود کے گودام اور خلیج میں موجود ایک امریکی بحری جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکی بحری جہاز پر کروز میزائل داغے گئے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب کویتی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے فضائی حدود میں داخل ہونے والے دشمن اہداف کا سراغ لگا کر انہیں تباہ کر دیا۔ کویتی حکام نے ایک امریکی فوجی اڈے کے قریب دھماکوں کی آوازوں کی تصدیق کی ہے، تاہم کسی جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ایران کے مختلف فوجی اہداف کے خلاف جاری کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کو لاحق خطرات کا خاتمہ اور خطے میں استحکام کو برقرار رکھنا ہے، جبکہ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی مزید حملے کی صورت میں جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نہ صرف خلیجی خطے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی بحری تجارت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔