1984 کے سکھ مخالف فسادات، ہزاروں افراد قتل، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی یاد تازہ

نئی دہلی (کیو این این ورلڈ) بھارت میں سکھوں کے خلاف ہونے والے بدترین قتلِ عام کو 42 سال بیت گئے، یکم نومبر 1984 کو سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد شروع ہونے والے سکھ مخالف فسادات بھارتی تاریخ کے دردناک اور شرمناک واقعات میں شمار ہوتے ہیں۔

31 اکتوبر 1984 کو اندرا گاندھی کے قتل کے بعد سکھ برادری کے خلاف جان لیوا تشدد شروع ہوا، جو تین روز تک جاری رہا۔ ان فسادات کے دوران ہزاروں بے گناہ سکھوں کو قتل کیا گیا، جبکہ سیکڑوں خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

یہ واقعات محض ایک مذہبی برادری کے خلاف تشدد نہیں تھے بلکہ انسانی حقوق اور بنیادی انسانی اقدار پر بھی سنگین حملہ تھے۔ عالمی ذرائع ابلاغ اور بین الاقوامی جریدوں نے بھی سکھوں کے قتلِ عام کو بھارتی تاریخ کا ایک شرمناک باب قرار دیا ہے۔

ڈپلومیٹ کے مطابق انتہاپسند ہندوؤں نے ووٹر فہرستوں کے ذریعے سکھوں کی شناخت کرکے انہیں چن چن کر قتل کیا۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق بھارتی حکومت کی سرپرستی میں سکھوں کے خلاف منظم قتلِ عام کی مہم چلائی گئی۔

42 برس گزرنے کے باوجود 1984 کے یہ واقعات سکھ برادری کے لیے ایک گہرا زخم اور انسانی حقوق کی تاریخ کا المناک باب ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے