پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغانستان سے جنگجو اور اسلحہ آتا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر کا رائٹرز کو انٹرویو

راولپنڈی (کیو این این ورلڈ) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے خبردار کیا ہے کہ افغان طالبان رجیم نے پاکستان میں دہشت گردی کی حمایت بند نہ کی اور پاکستان کے تحفظات و مطالبات تسلیم نہ کیے تو اسے سنگین قیمت چکانا پڑے گی۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کو 30 اکتوبر کو دیے گئے انٹرویو میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سپانسر ہے، جبکہ افغان طالبان رجیم بھارت کی پراکسی کے طور پر کام کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسی دہشت گرد تنظیمیں بھی پاکستان کے خلاف بھارتی پراکسی ہیں۔ ان کے مطابق افغان طالبان اپنے مقاصد کے لیے غیر ریاستی عناصر اور کرائے کے جنگجوؤں کو استعمال کر رہے ہیں۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ افغانستان اب بھی غیر ریاستی عناصر کے زیرِ اثر ہے اور وہاں ایک رجیم قائم ہے۔ افغانستان میں روسی مداخلت کے بعد متعدد انٹیلی جنس ایجنسیوں اور پراکسی گروپس نے اپنی جڑیں مضبوط کیں۔ ان کے مطابق جیش العدل، القاعدہ اور داعش خراسان (آئی ایس کے پی) جیسی بین الاقوامی دہشت گرد تنظیمیں بھی افغانستان میں موجود ہیں، جن کی موجودگی کی نشاندہی اقوام متحدہ، امریکا اور کئی دیگر ممالک بھی کر چکے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ پاکستان افغان طالبان سے صرف یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ پاکستان کے اندر دہشت گردوں کی حمایت بند کریں۔ ان کے مطابق افغان طالبان رجیم نے نور ولی محسود، بشیر زیب اور گل بہادر جیسے دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے جنگجوؤں کی تشکیلیں افغانستان سے آتی ہیں اور انہیں وہیں سے اسلحہ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے خبردار کیا کہ اگر افغان طالبان رجیم نے پاکستان کے تحفظات اور مطالبات تسلیم نہ کیے تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان رجیم کی عالمی سطح پر کوئی ساکھ نہیں، بین الاقوامی برادری کو اسے ایک معمول کی ریاست کی طرح رویہ اختیار کرنے پر مجبور کرنا چاہیے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ افغان طالبان کو منشیات کی کاشت اور پیداوار روکنے کے لیے بھی مجبور کیا جائے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے واضح کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج افغانستان کی جانب سے پیدا ہونے والے تمام خطرات، بشمول ڈرون حملوں، کا مؤثر مقابلہ کرنے اور ان کا سدباب کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے