نیکی خیل اور شلمان سانحات لمحۂ فکریہ، انسانی جانوں کا ضیاع ناقابلِ قبول

لنڈی کوتل (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار) عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صوبائی رہنما حاجی شاہ حسین شینواری نے ضلع خیبر میں بڑھتے ہوئے زمینی تنازعات اور ان کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی جان ہر زمین اور جائیداد سے زیادہ قیمتی ہے، اس لیے فریقین کو صبر و تحمل، برداشت اور مکالمے کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

ڈسٹرکٹ پریس کلب لنڈی کوتل (رجسٹرڈ) میں "میٹ دی پریس” سے خطاب کرتے ہوئے حاجی شاہ حسین شینواری نے کہا کہ علاقے میں زمینی تنازعات کے بڑھتے ہوئے واقعات لمحۂ فکریہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معمولی نوعیت کے اختلافات بروقت حل نہ ہونے کے باعث سنگین جھگڑوں اور خونریز تصادم کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جس کا خمیازہ پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتا ہے۔

اس موقع پر اے این پی لنڈی کوتل کے سابق صدر زبیر ولی اور سینئر نائب صدر شفیع اللہ شینواری بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

حاجی شاہ حسین شینواری نے کہا کہ جب تک پختون معاشرے میں تعلیم، شعور، برداشت اور مکالمے کی روایت کو فروغ نہیں دیا جاتا، اس وقت تک تنازعات اور دشمنیوں کا خاتمہ ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع خیبر ایک پسماندہ علاقہ ہے جہاں عوام کو درپیش مسائل کے بروقت حل کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے حالیہ نیکی خیل فائرنگ اور گزشتہ روز شلمان میں پیش آنے والے افسوسناک واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان سانحات میں جاں بحق ہونے والے پانچوں افراد نوجوان تھے، جو پورے معاشرے کے لیے ایک بڑا المیہ اور لمحۂ فکریہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زمین خواہ کتنی ہی قیمتی کیوں نہ ہو، وہ کسی بھی صورت ایک انسانی جان کی قیمت کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔

اے این پی رہنما نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) خیبر سے مطالبہ کیا کہ تھانوں میں آنے والے عوامی تنازعات کو فوری اور مؤثر انداز میں نمٹانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ معمولی اختلافات بڑے تصادم اور خونریزی میں تبدیل نہ ہوں۔ انہوں نے عدلیہ سے بھی اپیل کی کہ زمینوں اور دیگر تنازعات سے متعلق مقدمات کو جلد از جلد نمٹایا جائے تاکہ برسوں تک مقدمات زیر التوا رہنے کے باعث دشمنیوں اور کشیدگی میں اضافہ نہ ہو۔

انہوں نے والدین، بزرگوں اور معاشرے کے ذمہ دار افراد پر زور دیا کہ وہ نوجوان نسل کی مثبت تربیت پر خصوصی توجہ دیں اور انہیں ہتھیار اٹھانے کے بجائے صبر، برداشت، رواداری اور گفت و شنید کا راستہ اپنانے کی تلقین کریں۔

حاجی شاہ حسین شینواری نے کہا کہ ماضی میں حجرے سماجی تربیت، شعور بیداری اور روایتی اقدار کے فروغ کے اہم مراکز ہوا کرتے تھے، جہاں نوجوانوں کی کردار سازی کی جاتی تھی، تاہم آج حجرے ویران ہونے کے باعث معاشرتی اقدار کمزور پڑ رہی ہیں، جس کے منفی اثرات مختلف سماجی مسائل کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔

انہوں نے جرگہ مشران سے بھی اپیل کی کہ جرگے کے ادارے کو صرف صلح، بھائی چارے اور تنازعات کے پائیدار حل کے لیے استعمال کیا جائے اور اسے ذاتی مفادات یا کاروبار کا ذریعہ بنانے سے گریز کیا جائے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر حاجی شاہ حسین شینواری نے کہا کہ ایسے المناک واقعات کی روک تھام کے لیے معاشرے کے ہر فرد، قانون نافذ کرنے والے اداروں، عدلیہ، جرگہ مشران اور نوجوانوں کو اپنی اپنی ذمہ داریاں دیانت داری اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ادا کرنا ہوں گی تاکہ مستقبل میں کسی خاندان کو ایسے ناقابلِ تلافی سانحات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے