گہوٹکی (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار مشتاق علی لغاری) یارو لنڈ میں مبینہ زمین پر قبضے کے خلاف قاضی برادری کے افراد نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری انصاف اور تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ ان کی موروثی زرعی زمین پر قبضے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جس کے باعث وہ شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
احتجاج کے دوران الہڈوایو قاضی اور شمس قاضی نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی زرعی زمین گزشتہ تقریباً پچاس برس سے ان کی ملکیت اور قبضے میں ہے اور وہ اس زمین پر باقاعدگی سے کاشتکاری کرتے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق بااثر شخص روشن لنڈ گزشتہ دو برس سے ان کے کھاتے میں شامل پانچ جریب زمین پر مبینہ طور پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کے باعث تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ انہیں اپنی زمین پر زرعی سرگرمیاں انجام دینے سے روکا جا رہا ہے اور مختلف اوقات میں اسلحے کے زور پر ہراساں کرنے، دھمکیاں دینے اور بدزبانی جیسے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان حالات کے باعث ان کی روزگار سے وابستہ سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور وہ عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
قاضی برادری کے افراد کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر علاقے کے معززین کی موجودگی میں جرگہ نما اجلاس بھی منعقد ہوا تھا جس میں دونوں فریقین کا مؤقف سنا گیا۔ ان کے بقول اجلاس میں روشن لنڈ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے متنازع پانچ جریب زمین ان کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، تاہم اس فیصلے کے باوجود انہیں زمین پر کاشتکاری اور آبادکاری کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
مظاہرین نے متعلقہ ایس ایچ او، ضلعی انتظامیہ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، انہیں اور ان کے اہل خانہ کو تحفظ فراہم کیا جائے اور مبینہ قبضے کی کوششوں کا خاتمہ کرکے انہیں انصاف مہیا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات پر توجہ نہ دی گئی تو وہ احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔
واضح رہے کہ خبر میں شامل تمام الزامات اور دعوے احتجاج کرنے والے فریق کے ہیں۔ دوسری جانب روشن لنڈ کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آ سکا۔ مؤقف موصول ہونے کی صورت میں اسے بھی خبر میں مناسب اور متوازن انداز میں شامل کیا جائے گا۔