گلگت (کیو این این ورلڈ): گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 براہ راست نشستوں کے لیے عام انتخابات کا معرکہ سج گیا ہے اور ووٹرز کی جانب سے حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے لیے پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے شروع ہو چکا ہے، جو بغیر کسی تعطل کے شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔ گلگت بلتستان کا اگلا حکمران کون ہوگا، اس کا فیصلہ آج 9 لاکھ 58 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز کریں گے، جن میں 5 لاکھ 3 ہزار 772 مرد اور 4 لاکھ 54 ہزار 708 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام اضلاع میں مجموعی طور پر 1391 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے سیکیورٹی کے پیشِ نظر 349 پولنگ اسٹیشنوں کو حساس اور 551 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ انتخابی دنگل میں مجموعی طور پر 403 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں 396 مرد اور 7 سے 8 خواتین امیدوار شامل ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں پیپلز پارٹی کے 23، ن لیگ کے 22، استحکامِ پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے 15، پاکستان مسلم لیگ کے 11 اور جے یو آئی (ف) کے 9 امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں، جبکہ ایم ڈبلیو ایم کے 7، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے 6، 6 امیدواروں سمیت 266 آزاد امیدوار بھی اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔
انتخابات کو پرامن اور شفاف بنانے کے لیے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔ مقامی پولیس، جی بی اسکاؤٹس اور پنجاب پولیس کی بھاری نفری پولنگ اسٹیشنز پر تعینات ہے، جبکہ مختلف انتخابی حلقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے فلیگ مارچ بھی کیا گیا۔ واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کل 33 نشستوں پر مشتمل ہے، جس میں 24 براہ راست، 6 خواتین اور 3 ٹیکنوکریٹس کی نشستیں شامل ہیں۔ حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو 17 نشستوں کی سادہ اکثریت درکار ہوگی۔
سیاسی و انتخابی لحاظ سے دیامر اور سکردو کو انتہائی اہم اضلاع قرار دیا جا رہا ہے جہاں 4، 4 حلقے ہیں، جبکہ گلگت، غذر اور گانچھے میں 3، 3 اور نگر و استور میں 2، 2 انتخابی حلقے ہیں۔ کئی حلقوں میں بڑے سیاسی برجوں کے درمیان کانٹے دار مقابلے متوقع ہیں۔ جی بی اے 1 گلگت میں پی پی کے امجد حسین اور ن لیگ کے شفیق الدین، جی بی اے 2 میں ن لیگ کے سابق وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن اور پی پی کے جمیل احمد، جی بی اے 18 دیامر میں آئی پی پی کے امیدوار و سابق وزیراعلیٰ گلبر خان اور ن لیگ کے کفایت الرحمٰن، جبکہ جی بی اے 19 غذر اور جی بی اے 13 استور میں بھی کڑے مقابلے کی توقع ہے۔