کے پی میں ایمرجنسی کے نفاذ پر غور، وفاقی کابینہ کے ارکان کو اسلام آباد میں رہنے کی ہدایت

اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) وزیراعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات سے متعلق اہم اجلاس طلب کرلیا ہے، جس میں صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ یا گورنر راج کے ممکنہ آپشنز پر غور کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے ارکان کو بھی اسلام آباد میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ وفاقی کابینہ کا اجلاس جلد بلائے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہوگا، جس میں اہم وفاقی وزرا اور وزارت داخلہ کے اعلیٰ حکام شرکت کریں گے۔ اجلاس میں خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال، دہشت گردی کے واقعات اور سکیورٹی سے متعلق امور پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔ اگر اس حوالے سے کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس کے لیے وفاقی کابینہ کی منظوری سمیت آئینی تقاضوں کو پورا کرنے کا معاملہ بھی زیر غور آسکتا ہے۔ تاہم گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق کسی حتمی فیصلے کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

وفاقی حکومت کی جانب سے ممکنہ اقدامات پر غور ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں، صوبائی حکومت کے تعاون اور وفاق و صوبے کے درمیان سیاسی اختلافات پر بحث جاری ہے۔

وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی کے حوالے سے غور و خوض مکمل ہوچکا ہے اور یہ 12 اضلاع تک محدود نہیں ہوگی بلکہ پورے صوبے میں نافذ کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا عمل دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت کے تعاون سے مشروط ہوگا۔

ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت اس معاملے کو صرف چند متاثرہ اضلاع تک محدود رکھنے کے بجائے صوبے کی مجموعی صورتحال کے تناظر میں دیکھ رہی ہے۔ تاہم ایمرجنسی کے نفاذ کے قانونی طریقہ کار اور حتمی فیصلے کی تفصیلات باضابطہ اعلان سے ہی واضح ہوسکیں گی۔

وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ایمرجنسی سے متعلق معاملہ اب ڈیڈ اینڈ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم اور صدر نے ابتدائی طور پر مذاکرات کے آپشن پر غور کیا، جس کے بعد حکومت نے مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی اور بات چیت شروع ہوئی۔ جب مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوسکی تو وزیراعظم کی جانب سے لانگ مارچ ختم کرنے کے لیے بھی مذاکرات کی پیشکش کی گئی۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات کا آپشن قابل عمل نہیں رہتا تو پھر دوسرے راستوں پر غور کرنا پڑے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایمرجنسی کا معاملہ محض اس بات سے مشروط نہیں کہ پی ٹی آئی اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرتی ہے یا نہیں، بلکہ بنیادی مسئلہ دہشت گردی کے خلاف وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا دہشت گردی کے خلاف وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی کرائیں تو معاملات بہتر ہوسکتے ہیں۔ ان کے بقول اگر پی ٹی آئی اس حوالے سے واضح عزم ظاہر نہیں کرتی تو لانگ مارچ اسلام آباد تک لانے یا نہ لانے سے فرق نہیں پڑے گا۔

رانا ثنا اللہ نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے چند روز کے دوران ایک سے زیادہ مرتبہ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کی مخالفت کی ہے۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت سمجھتی ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے واضح پالیسی اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ ان کے مطابق متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی یا آئی ڈی پیز بنانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

رانا ثنا اللہ نے وادی تیراہ کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں مقامی حالات کے پیش نظر متعلقہ اقدامات کیے گئے تھے اور اس سلسلے میں مقامی آبادی اور صوبائی حکومت سے مشاورت کی گئی تھی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ایمرجنسی کے نفاذ کا مطلب یہ نہیں کہ متاثرہ اضلاع کو خالی کرایا جائے گا۔ ان کے مطابق سکیورٹی فورسز کی جانب سے کسی علاقے کو کلیئر کرنے کے بعد وہاں امن برقرار رکھنے اور انتظامی امور چلانے کے لیے سول انتظامیہ کا کردار اہم ہوتا ہے۔

رانا ثنا اللہ نے یہ بھی کہا کہ بعض متاثرہ علاقوں میں پولیس تھانے موجود نہیں، اس لیے سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعد علاقے کا انتظام سنبھالنے اور امن برقرار رکھنے کے لیے سول انتظامیہ کی موجودگی ضروری ہے۔

یاد رہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی دو الگ آئینی اصطلاحات ہیں، اگرچہ مخصوص حالات میں ان کا تعلق صوبے کے انتظامی معاملات اور وفاق کے اختیارات سے ہوسکتا ہے۔

آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 کے تحت جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی سنگین صورتحال میں ہنگامی حالت کے نفاذ کی گنجائش موجود ہے جس سے پاکستان یا اس کے کسی حصے کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو۔ دوسری جانب آرٹیکل 234 کسی صوبے میں آئینی نظام کے مطابق حکومت چلانا ممکن نہ رہنے کی صورت میں مخصوص آئینی طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔

آرٹیکل 234 کے تحت کارروائی کی صورت میں صوبائی انتظامی اختیارات کے استعمال اور صوبائی اسمبلی کے اختیارات سے متعلق اقدامات آئین میں درج شرائط اور طریقہ کار کے تابع ہوتے ہیں۔ تاہم عدلیہ کے اختیارات کو محض گورنر راج کے نفاذ کی بنیاد پر وفاقی حکومت یا گورنر کو منتقل نہیں کیا جاسکتا۔

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج سے متعلق حتمی صورتحال وزیراعظم کے اجلاس، وفاقی کابینہ کے ممکنہ فیصلے اور باضابطہ حکومتی اعلان کے بعد ہی واضح ہوگی۔ فی الحال اہم سوال یہی ہے کہ وفاقی حکومت صوبے میں سکیورٹی کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کون سا آئینی اور انتظامی راستہ اختیار کرتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے