پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ بانی پی ٹی آئی سے متعلق فیصلہ آیا ہے، یہ بہت پہلے آجانا چاہیے تھا۔

اسلام آباد(کیو این این وررلڈ)جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان سے متعلق یہ فیصلہ بہت پہلے آ جانا چاہیے تھا۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آگیا ہے، پی ٹی آئی احتجاج جاری رکھتی ہے یا ختم کرتی ہے، یہ اس کا اپنا فیصلہ ہے۔

نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ اصولی طور پر یونٹس اور صوبوں کے قیام کے خلاف نہیں، ماضی میں فاٹا، ہزارہ اور دیگر صوبوں کے قیام کی حمایت بھی کی ہے، تاہم موجودہ حالات میں نئے صوبے بنانے کا نہ ماحول ہے اور نہ وقت۔

انہوں نے کہا کہ جب ملک کو درپیش بڑے مسائل موجود ہوں تو صوبوں کی تقسیم کا معاملہ اٹھانا اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن لیڈر کو مشورہ دیا کہ ملکی معاملات پر آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے تاکہ اہم قومی مسائل پر تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر غور کریں۔

اسلامی بلاک کے قیام کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسلامی بلاک کا قیام ان کی جماعت کے منشور کا حصہ ہے اور وہ اس کی حمایت کریں گے۔

کشمیر کے معاملے پر بات کرتے ہوئے جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ حکمران جماعتیں یہاں اتحادی ہیں جبکہ کشمیر میں ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کے باوجود بعید نہیں کہ کشمیر میں بھی کسی اتحاد پر اتفاق ہوجائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام سے ووٹ لیے جارہے ہیں اور نتائج بنائے جارہے ہیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اگلی سماعت تک شفا اسپتال منتقل کرنے، ان کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور انہیں سخت سیکیورٹی میں اسپتال لے جانے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے اسپتال کے باہر امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے