واشنگٹن(کیو این این ورلڈ)باراک اوباما نے ایران پالیسی کے حوالے سے موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کی حکومت نے ایران کے ساتھ معاملہ جنگ کے بجائے سفارتکاری کے ذریعے حل کیا تھا، جبکہ موجودہ سخت گیر پالیسیوں کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔
واشنگٹن واشنگٹن میں دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو کے دوران اوباما نے دعویٰ کیا کہ ان کی انتظامیہ نے مذاکرات کے ذریعے ایران کے افزودہ یورینیم پروگرام کو بڑی حد تک محدود کیا اور اس عمل میں کسی فوجی کارروائی یا بڑے تصادم کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
ان کا کہنا تھا کہ اُس دور میں نہ خطے میں بڑی خونریزی ہوئی، نہ آبنائے ہرمز بند ہوئی اور نہ ہی موجودہ جیسی شدید کشیدگی پیدا ہوئی۔ اوباما کے مطابق سفارتکاری کے ذریعے حاصل ہونے والے نتائج زیادہ پائیدار اور خطے کے لیے نسبتاً محفوظ تھے۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی سخت پالیسیوں کے باوجود ایران کے حوالے سے خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اوباما دور کی ایران پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
ٹرمپ نے الزام عائد کیا تھا کہ اوباما انتظامیہ نے ایران کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا اور تہران کو مالی طور پر مضبوط ہونے کا موقع دیا، حتیٰ کہ اربوں ڈالر کی رقوم کی فراہمی کا بھی ذکر کیا گیا، جس سے ایرانی حکومت کو فائدہ پہنچا۔