ایران امریکا کشیدگی: چین نے پاکستان سے ثالثی بڑھانے کا کہا، مذاکرات میں پیش رفت جاری: امریکی نائب صدر

بیجنگ/واشنگٹن/تہران/ابوظہبی(کیو این این ورلڈ) ایران، امریکا اور خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آگئی ہے جبکہ آبنائے ہرمز عالمی طاقتوں کے درمیان تنازع اور خدشات کا مرکزی محور بن گئی ہے۔

چین نے پاکستان سے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششیں مزید تیز کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام اور آبنائے ہرمز سے متعلق مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلیفونک گفتگو میں چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اعتماد کے ساتھ اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے کیلئے مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بنیادی شرط یہی ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی چین پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کو خلیج میں جاری اقدامات سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ بحران کے حل میں کردار ادا کرنا چین کے اپنے مفاد میں بھی ہے کیونکہ چینی بحری جہاز بھی آبنائے ہرمز کے بحران سے متاثر ہو رہے ہیں۔

ادھر امریکا اور چین اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ کسی بھی ملک کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس عائد کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ سے اہم ملاقاتیں کر رہے ہیں، جن میں ایران کا معاملہ بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔

ایران نے بھی اپنے مؤقف میں سختی برقرار رکھتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر اس کا مکمل کنٹرول ہے اور ضرورت پڑنے پر یہ گزرگاہ امریکی افواج کیلئے “قبرستان” بن سکتی ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ کے عہدیدار کیپٹن سعید سیاح سارانی نے دعویٰ کیا کہ ایران نے “اسمارٹ ناکہ بندی” نافذ کر رکھی ہے اور بغیر اجازت ایک لیٹر تیل بھی گزرنے نہیں دیا جائے گا۔

ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے مغربی حصے کی نگرانی پاسداران انقلاب جبکہ مشرقی حصے کی نگرانی ایرانی بحریہ کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ ایران خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کیلئے ہتھیاروں کی ترسیل کی اجازت نہیں دے گا۔

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری ہے اور اب تک 67 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا جا چکا ہے جبکہ بعض جہازوں کو وارننگ فائر کے بعد واپس جانے پر مجبور کیا گیا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے والوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے عوام کے خلاف اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ ناقابلِ معافی ہے اور اس کا حساب لیا جائے گا۔ انہوں نے کویت پر بھی الزام عائد کیا کہ اس نے خلیج فارس میں ایرانی کشتی پر حملہ کرکے 4 ایرانی شہریوں کو حراست میں لیا۔

ادھر متحدہ عرب امارات کے صدر کے مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ امارات خطے میں کشیدگی کے باوجود سیاسی حل اور سفارتکاری کیلئے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عرب ممالک اور ایران کے تعلقات محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔

اسی دوران امریکی اخباروں نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی فوج امریکی دعوؤں سے زیادہ طاقتور ہے اور آبنائے ہرمز میں امریکی بحری جہازوں اور آئل ٹینکرز کیلئے خطرہ بن سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، تیل کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارت کیلئے بھی بڑے خطرات پیدا کر رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے