سفارتی کشیدگی: پیشگی منظوری کے باوجود بنگلہ دیشی وزیراعظم کے مشیر کو دہلی ایئرپورٹ پر روک لیا گیا

نئی دہلی: (کیو این این ورلڈ) بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ایک نیا سفارتی تنازع اس وقت کھڑا ہو گیا جب بھارتی امیگریشن حکام نے بنگلہ دیشی وزیراعظم کے مشیر زاہد الرحمان کو ملک میں داخل ہونے سے روک دیا۔ نئی دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترنے کے بعد بھارتی حکام کی جانب سے بنگلہ دیشی وزیراعظم کے مشیر سے تقریباً ڈھائی گھنٹے تک سخت پوچھ گچھ بھی کی گئی، جس پر دونوں ممالک کے سفارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

بنگلہ دیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس واقعے کی مکمل اور تفصیلی معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سفارتی سطح پر مروجہ قوانین کے تحت پیشگی اطلاع اور منظوری کے باوجود بھارتی امیگریشن نے زاہد الرحمان کو فوری طور پر ملک میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ سفارتی پروٹوکول اور پیشگی منظوری کے باوجود کسی دوست ملک کے اعلیٰ ترین سرکاری مشیر کے ساتھ پیش آنے والا یہ غیر متوقع واقعہ انتہائی تشویشناک سمجھا جا رہا ہے۔

ایئرپورٹ پر طویل پوچھ گچھ اور معاملے کے طول پکڑنے پر بھارت کے اعلیٰ ترین حکام نے مداخلت کی، جس کے بعد امیگریشن نے زاہد الرحمان کو بھارت میں داخل ہونے کی اجازت دے دی۔ تاہم، بنگلہ دیشی میڈیا کا بتانا ہے کہ اس تضحیک آمیز رویے اور طویل انتظار کے بعد وزیراعظم کے مشیر زاہد الرحمان نے بھارت میں داخل ہونے کے بجائے احتجاجاً فوری طور پر واپس بنگلہ دیش جانے کا فیصلہ کیا اور وہ کولمبو کے متبادل راستے سے ڈھاکا کے لیے روانہ ہو گئے۔

رپورٹس کے مطابق وزیراعظم کے مشیر زاہد الرحمان بحرِ ہند رِم ایسوسی ایشن (آئی او آر اے) کے اہم بین الاقوامی اجلاس میں شرکت کے لیے سرکاری دورے پر بھارت گئے تھے۔ اس سفارتی بدنیتی اور پروٹوکول کی خلاف ورزی پر بنگلہ دیش کے عوامی اور سیاسی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے، جبکہ سفارتی ماہرین کا خیال ہے کہ اس واقعے سے دونوں ہمسایہ ممالک کے باہمی تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے