آج پھر جمہورے کی بات سچ ثابت ہوئی

آج پھر جمہورا بچہ یاد آ گیا
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی

روزمرہ کے معمول کے مطابق ملکی اور بین الاقوامی خبروں پر نظر دوڑاتے ہوئے اچانک ایک ایسی لرزہ خیز خبر سامنے آئی جس نے پاؤں تلے سے زمین نکال دی۔ خبر تھی کہ کراچی کے کلثوم بائی ولیکا ہسپتال میں مبینہ طور پر استعمال شدہ یا غیر محفوظ سرنجوں کے بے دریغ استعمال سے درجنوں معصوم بچے ایچ آئی وی (HIV) جیسے مہلک مرض کا شکار ہو چکے ہیں۔

اس اندوہناک خبر کو پڑھتے ہی ذہن کے نہاں خانوں میں ماضی کے کئی بھیانک واقعات فلم کی طرح چلنے لگے۔ لاڑکانہ کا وہ ہسپتال یاد آیا جہاں غفلت اور مجرمانہ لاپروائی کے باعث بچوں میں ایڈز پھیلایا گیا، اور پھر ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ شریف کے ٹی ایچ کیو ہسپتال کا وہ المیہ ذہن پر ہتھوڑے برسانے لگا جہاں معصوم کلیوں کو اسی بے حسی کے پاؤں تلے بے دردی سے مسل دیا گیا۔

انہی تلخ اور روح فرسا سوچوں میں گم تھا کہ اچانک ماضی کے دریچوں سے ایک بھولی بسری صدا سنائی دی۔ بی بی سی اردو سروس کا وہ ہلکا پھلکا، طنزیہ و مزاحیہ صبح کا پروگرام "سویرے سویرے” یاد آ گیا، جس کا آغاز پس منظر میں چلتے موسیقی، مرغ کی بانگ، مداری کی ڈگڈگی اور "جمہورے” کی شوخ آواز سے ہوتا تھا۔

اس یادگار پروگرام کے کردار اور ان کے مکالمے دماغ کے پردے پر چلنے لگے۔ مداری کہتا ہے:
"ارے جمہورے! کچھ عرصے سے تو غائب تھا، کہاں چلا گیا تھا؟”
جمہورا جواب دیتا ہے:
"ہاں مداری! میں پاکستان گیا تھا، لیکن وہاں پہنچتے ہی پکڑا گیا۔ انہوں نے مجھے ایئرپورٹ پر ہی گرفتار کر لیا!”

مداری حیرت سے پوچھتا ہے:
"کیا تیرا ویزہ درست نہیں تھا؟ کیا تو نے کوئی غیر قانونی کام کیا؟ کیا تیرے پاس منشیات تھیں یا تو کچھ سمگل کر رہا تھا؟”
جمہورا معصومیت سے جواب دیتا ہے:
"نہیں مداری! میرا ویزہ بھی بالکل ٹھیک تھا، نہ میرے پاس منشیات تھیں، نہ میں سمگلر تھا اور نہ ہی کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث تھا۔ سچی بات تو یہ ہے مداری کہ اگر میں یہ سب کچھ کر رہا ہوتا تو مجھے وہاں کوئی بھی نہ پکڑتا!”

مداری کا تجسس مزید بڑھ جاتا ہے اور وہ پوچھتا ہے:
"تو پھر تو کیوں پکڑا گیا بھائی؟”
جمہورا کہتا ہے:
"مداری! میں کیا بتاؤں؟ میں اس لیے پکڑا گیا کیونکہ میرے ہاتھ میں صرف پانی کی بوتل تھی!”

جمہورے کا یہ طنز محض ایک مزاحیہ خاکہ نہیں بلکہ ہمارے اس فرسودہ، سفاک اور غیر انسانی طبی نظام کا اصل چہرہ ہے، جہاں کراچی کا کلثوم بائی ولیکا اسپتال اب لاڑکانہ اور تونسہ شریف کے بعد ایچ آئی وی پھیلاؤ کا نیا مرکز بن کر سامنے آیا ہے۔

استعمال شدہ سرنجوں سے درجنوں معصوم بچوں کے ایچ آئی وی کا شکار ہونے کے انکشاف نے ملک کے پورے صحت کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ محض غفلت نہیں بلکہ معصوم جانوں کا سستا اور بے رحم قتلِ عام ہے، جس میں سفید کوٹ پہنے مسیحا اور ہسپتالوں کے منتظمین برابر کے شریک دکھائی دیتے ہیں۔

سندھ کے دارالحکومت کراچی کے صنعتی علاقے سائٹ ٹاؤن میں واقع اس ہسپتال میں سرنجوں کے مجرمانہ دوبارہ استعمال اور انفیکشن کنٹرول کی سنگین ناکامی نے ایک ایسے ہولناک طبی و انسانی بحران کو جنم دیا ہے جو باقاعدہ تحقیقات کے بعد لاڑکانہ اور تونسہ شریف کے بعد ملک کا تیسرا بڑا ایچ آئی وی آؤٹ بریک بن چکا ہے۔

اندرونی تحقیقاتی ذرائع اور دستاویزی شواہد بتاتے ہیں کہ سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (SESSI) کے زیرِ انتظام چلنے والے اس سرکاری ہسپتال میں غریب مزدوروں کے معصوم بچوں کو ایک ہی سرنج سے متعدد بار انجکشن لگائے جانے کا بھیانک کھیل کھیلا جاتا رہا۔

اس کے نتیجے میں اب تک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 78 سے 81 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ غیر سرکاری اور میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تعداد 100 سے 200 سے زائد بتائی جا رہی ہے۔ سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ اب تک 6 سے 9 معصوم کلیوں کی زندگی کے چراغ ہمیشہ کے لیے گل ہو چکے ہیں۔

تحقیقات کے مطابق ایچ آئی وی کا یہ ہولناک پھیلاؤ نومبر 2025 سے فروری 2026 کے درمیان اپنے عروج پر پہنچا، جب ہسپتال میں ڈسپوزایبل سرنجوں کی قلت کا بہانہ بنا کر یا دانستہ طور پر استعمال شدہ سرنجوں کا کاروبار کرنے والے مافیا کی مدد سے بچوں کی رگوں میں موت اتاری جا رہی تھی۔

بعد ازاں جون 2026 میں انکوائری رپورٹ کی روشنی میں 37 ملازمین کو معطل کیا گیا اور اب جولائی 2026 میں وزیراعلیٰ سندھ نے 2 ارب روپے کے فنڈز اور ایف آئی آرز درج کرنے کا اعلان کیا ہے، لیکن کیا یہ فنڈز ان بچوں کو ان کی صحت اور مسکراہٹ واپس لوٹا سکتے ہیں؟

ہائی کورٹ میں کیس زیرِ سماعت ہونے کے باوجود متاثرہ خاندان انصاف اور بنیادی طبی و سماجی سیکیورٹی کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔

لیکن المیہ صرف اس طبی فرعونیت اور انتظامی غفلت تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس لرزہ خیز انکشاف کے بعد متاثرہ خاندانوں پر ہمارے معاشرے کی طرف سے جو قیامت ٹوٹی ہے، وہ اس سے بھی زیادہ روح فرسا ہے۔

ایچ آئی وی کے شکار بچوں کے خاندانوں کے خلاف شروع ہونے والا سماجی و معاشی بائیکاٹ ایک ایسا ناسور ہے جو قانون کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اورنگی ٹاؤن ضیا کالونی کے رہائشی آفتاب خان کے چار معصوم بچوں، جن کی عمریں 3 سے 12 سال کے درمیان ہیں، میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہو چکی ہے۔ آفتاب خان نے دکھی دل اور نم آنکھوں کے ساتھ بتایا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے ایک ہی سرنج سے بار بار بچوں کو سوئیاں چبھوئی گئیں۔

جب ان کی کمسن بیٹی نے اس درد اور نئی سرنج نہ ہونے پر احتجاج کیا تو وہاں موجود نرس نے انتہائی تکبر اور بے حسی سے جواب دیا:
"تم ڈاکٹر ہو یا ہم؟”

اس طبی فرعونیت کی سزا اب آفتاب کا پورا خاندان بھگت رہا ہے۔ ان کے بیٹے کو محلے داروں اور اسکول انتظامیہ کے دباؤ پر اسکول سے نکال دیا گیا ہے اور معصوم بچہ روز پوچھتا ہے:
"ابا! میرا قصور کیا ہے؟ میں اسکول کیوں نہیں جا سکتا؟”

آفتاب خان گزشتہ تین ماہ سے دکانوں اور محلے میں ہونے والی چہ مگوئیوں اور مکان کا کرایہ ادا نہ کر سکنے کے باعث شدید مالی و ذہنی کٹھن کا شکار ہیں اور انہیں گھر چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

اسی طرح اتحاد ٹاؤن کی عائشہ کامران اور پٹھان کالونی کے محمد آصف کی کہانیاں بھی رونگٹے کھڑے کر دینے والی ہیں۔ ان کے بیمار بچوں کی جیسے ہی تشخیص ہوئی، مکان مالکان نے انہیں فوری طور پر مکان خالی کرنے کے نوٹس تھما دیے۔

محلے داروں نے ان کے معصوم بچوں کے ساتھ دوسرے بچوں کے کھیلنے پر سخت پابندی عائد کر دی ہے، جبکہ دکانداروں نے انہیں سودا سلف دینا بند کر دیا ہے۔

یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں مجرم آزاد گھومتے ہیں لیکن ظلم کا شکار ہونے والے معصوم بچوں اور ان کے لاچار والدین کو اچھوت بنا دیا جاتا ہے؟

معاشرے کی اس جمی ہوئی جہالت اور قانون کی بے حسی کو سمجھنے کے لیے اگر ہم ماضی کے دریچوں میں جھانکیں تو معلوم ہوگا کہ یہ تباہ کن آؤٹ بریک ہمارے ملک کی تاریخ کا کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ اسی بھیانک تسلسل کی ایک اور کڑی ہے۔

اس سے قبل 2019 میں لاڑکانہ کے تحصیل رتوڈیرو میں سرنجوں کے دوبارہ استعمال اور اتائی ڈاکٹروں کی مجرمانہ سرگرمیوں سے 900 سے زائد افراد متاثر ہوئے تھے جن میں 85 فیصد سے زائد معصوم بچے تھے اور 50 سے زائد اموات ہوئیں۔ اس وقت بھی بلند و بانگ دعوے ہوئے، ہنگامی کمیٹیاں بنیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ سانحہ بھی فائلوں کی نذر ہو گیا۔

بالکل اسی طرح 2024-2025 میں پنجاب کے پسماندہ ضلع ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ شریف کے ٹی ایچ کیو ہسپتال میں ایک ہی سرنج کے بار بار استعمال اور انفیکشن کنٹرول میں مجرمانہ غفلت کے باعث 331 بچوں کے ایچ آئی وی سے متاثر ہونے کا ہولناک انکشاف سامنے آیا تھا۔

اس واقعے کے بعد چند روز تک حکام متحرک رہے، ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) کو معطل بھی کیا گیا، تاہم معاملہ ٹھنڈا پڑتے ہی چند ماہ بعد انہیں دوبارہ بحال کر دیا گیا۔

رتوڈیرو اور تونسہ شریف کے المیے اب ماضی کا حصہ بن کر فائلوں کی نذر ہو چکے ہیں اور وہاں کے متاثرہ بچے زندگی اور موت کی کشمکش میں سسک رہے ہیں، جبکہ کراچی کا ولیکا ہسپتال اب اسی بھیانک تاریخ کی نئی کڑی بن کر ہمارے سامنے کھڑا ہے۔

آج سے تقریباً 35 یا 40 سال قبل بی بی سی اردو کے پروگرام "سویرے سویرے” میں جمہورے بچے کے کہے ہوئے وہ طنزیہ اور کاٹ دار الفاظ ایک بار پھر ہمارے دماغ پر ہتھوڑے برسا رہے ہیں کہ پاکستان میں قانون اور طاقتور کا رویہ آج بھی رتی برابر نہیں بدلا۔

یہاں ہمیشہ پکڑا وہ جاتا ہے، سزا کا حقدار اسے ٹھہرایا جاتا ہے، یا اچھوت اسے بنا دیا جاتا ہے جس نے کوئی جرم نہیں کیا ہوتا۔

ولیکا ہسپتال، رتوڈیرو اور تونسہ شریف میں موت بانٹنے والے مجرموں، ملاوٹ شدہ یا استعمال شدہ سرنجیں سپلائی کرنے والے مافیا اور غفلت برتنے والے ڈاکٹروں اور نرسوں کی دیدہ دلیری دیکھ کر جمہورے کے وہ چبھتے ہوئے الفاظ مجھے ایک بار پھر تڑپا دیتے ہیں۔

جمہورے کا وہ جملہ میرے کانوں میں پگھلے ہوئے سیسے کی طرح اتر رہا ہے:
"ارے مداری! اگر میں سمگلر ہوتا، میرے پاس منشیات ہوتیں یا میں کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہوتا تو مجھے وہاں کوئی بھی کچھ نہ کہتا، پکڑا میں اس لیے گیا تھا کیونکہ میرے ہاتھ میں صرف پانی کی بوتل تھی!”

یہ تلخ ترین اور سفاک حقیقت ثابت کرتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں انسانی جانوں سے کھیلنے والے، استعمال شدہ سرنجیں دوبارہ سپلائی کر کے معصوم زندگیوں کو زندہ درگور کرنے والے مجرم آزاد گھومتے ہیں، انہیں وی آئی پی پروٹوکول ملتا ہے، جبکہ قانون کا پورا شکنجہ، معاشی بائیکاٹ اور سماجی سزا کا کوڑا صرف "پانی کی بوتل” اٹھانے والے کمزور، بے بس، لاچار اور بے گناہ شہریوں اور ان کے معصوم بچوں کی پیٹھ پر ہی برسایا جاتا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ یہاں قانون صرف بے گناہوں کے لیے ہے، اور مجرموں کے لیے پورا ملک ایک محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے