درخشاں ناموں میں ایک معتبر اور قابلِ احترام نام فضل مومند کا ہے

فضل مومند: پشتو زبان و ادب کا مخلص قلمکار
تحریر: منور شاہ منور
پشتو زبان و ادب کی زرخیز سرزمین نے ہمیشہ ایسے نابغۂ روزگار افراد کو جنم دیا ہے جنہوں نے اپنی فکری بصیرت، تخلیقی صلاحیت، علمی ذوق اور مادری زبان سے والہانہ محبت کے ذریعے نہ صرف اپنے عہد کو متاثر کیا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک روشن ادبی روایت چھوڑی۔ انہی درخشاں ناموں میں ایک معتبر اور قابلِ احترام نام فضل مومند کا ہے، جو بیک وقت شاعر، ادیب، مورخ، نقاد، کالم نگار، خاکہ نگار اور پشتو زبان و ادب کے مخلص خدمت گار کی حیثیت سے اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں۔

فضل مومند کا اصل نام فضل شاہ ہے، جب کہ ادبی دنیا میں وہ فضل مومند کے نام سے معروف ہیں۔ آپ 1964ء میں ادیزئی گاؤں، کوہِ دامان میں پیدا ہوئے۔ یہ بستی پشاور شہر سے تقریباً پچیس کلومیٹر جنوب کی جانب کوہاٹ روڈ پر واقع ہے۔ آپ کا تعلق تپہ مومند، باڑہ مومند کے ایک معروف اور تاریخی قبیلے سے ہے، جس کا وسیع علاقہ کوٹلہ محسن خان سے شروع ہو کر درہ آدم خیل تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ وہی خطۂ ارض ہے جس نے پشتو ادب کو متعدد نامور اہلِ قلم اور اہلِ فکر عطا کیے۔

اس مٹی سے رحمان بابا جیسے بے بدل صوفی شاعر نے جنم لیا، جن کا شمار پشتو شاعری کے آسمان کے درخشاں ترین ستاروں میں ہوتا ہے۔ اسی ادبی خانوادے اور تہذیبی ماحول میں مغزاللہ خان مومند، عبد الحمید موشگاف مومند، قلندر مومند اور دورِ حاضر کے ممتاز شاعر DSP اقبال مومند شہید جیسے اہلِ قلم بھی سامنے آئے۔ یہ خطہ بلاشبہ ایسی زرخیز مٹی کا امین ہے جس میں قدرت نے فکری اور تخلیقی صلاحیتوں کے بے شمار بیج بو رکھے ہیں۔

فضل مومند نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں حاصل کی اور ہائی اسکول تک تعلیم وہیں مکمل کی۔ بعد ازاں بارہویں جماعت تک تعلیم گورنمنٹ ڈگری کالج درہ آدم خیل سے حاصل کی۔ زندگی کا ایک طویل حصہ، تقریباً تینتیس برس، انہوں نے دیارِ غیر میں گزارا۔ خلیجِ مسقط، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے مختلف شہروں میں قیام کے دوران بھی اپنی مادری زبان اور تہذیبی شناخت سے ان کا رشتہ کبھی کمزور نہیں ہوا، بلکہ پردیس کی سرزمین پر رہتے ہوئے پشتو زبان و ادب سے ان کی وابستگی مزید مضبوط اور پختہ ہوتی چلی گئی۔

یہی زبان دوستی تھی جس نے انہیں دیارِ غیر میں بھی ادبی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے متحرک رکھا۔ جدہ میں انہوں نے ایک ادبی ٹولنے کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، جو آج بھی اپنی ادبی سرگرمیوں کے ذریعے نئی نسل اور نوجوان اہلِ ذوق کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے۔ یہ خدمت اس لحاظ سے بھی قابلِ تحسین ہے کہ پردیس میں اپنی زبان، ثقافت اور ادبی روایت کو زندہ رکھنا کسی معمولی کاوش کا نام نہیں۔

صحافت کے میدان میں بھی فضل مومند نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ سعودی عرب میں وہ خیبر نیوز کے بیورو چیف اور رپورٹر کی حیثیت سے بھی دس سال تک خدمات انجام دیتے رہے۔ ان کی صحافتی وابستگی محض خبر رسانی تک محدود نہیں رہی بلکہ انہوں نے حالاتِ حاضرہ، سماجی مسائل، سیاسی تغیرات اور معاشرتی رویوں کو ادبی اور فکری زاویے سے دیکھنے کی روایت کو بھی آگے بڑھایا۔

اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی یہ ہے کہ وہ پشتو اخبار وحدت کے لیے ہفتے میں تین کالم تحریر کرتے ہیں، جن میں بالخصوص کرنٹ افیئرز (روانے چارے) حالاتِ حاضرہ کو موضوع بنایا جاتا ہے۔ ان کے یہ کالم محض واقعات کا بیان نہیں بلکہ حالات کو سمجھنے، پرکھنے اور ان کے پس منظر کو آشکار کرنے کی ایک فکری کوشش ہوتے ہیں۔ یوں فضل مومند نے ادب کے ساتھ ساتھ صحافت کو بھی اپنے اظہار کا مؤثر وسیلہ بنایا ہے۔

سیاسی و ثقافتی میدان میں بھی فضل مومند کی سرگرمیاں قابلِ ذکر ہیں۔ ان کا تعلق عوامی نیشنل پارٹی سے ہے اور وہ عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی کلچر کمیٹی کے رکن کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اسی طرح ملگری لیکوالان کے ضلعی صدر کی حیثیت سے بھی انہوں نے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور مختلف ادبی و ثقافتی پروگراموں کے انعقاد میں فعال کردار ادا کیا۔ ان سرگرمیوں میں مشاعرے، باچا خان امن مشاعرہ اور دیگر ادبی و ثقافتی پروگرام خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔

فضل مومند کی ادبی وابستگی کا دائرہ بھی خاصا وسیع ہے۔ وہ پشتو زبان کے شاعر، ادیب، مورخ، تنقید نگار، کالم نگار، خاکہ نگار اور نظم گو کی حیثیت سے اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ انہوں نے نثر کے میدان میں بھی متعدد تصانیف مرتب کی ہیں، اگرچہ ان میں سے بعض ابھی اشاعت کے مرحلے تک نہیں پہنچ سکیں۔ ان کے ادبی ذخیرے میں شاعری، سفرنامہ اور دیگر اصناف سے متعلق تحریری کام موجود ہے۔ دستار نامہ، خوشحال خٹک اور خاکی تکلونہ جیسے کام ان کی علمی و ادبی دلچسپیوں کی وسعت کا پتا دیتے ہیں۔

فضل مومند کی شخصیت کا ایک خوب صورت پہلو ان کا وسیع مطالعہ بھی ہے۔ وہ جو کچھ دیکھتے، سنتے اور محسوس کرتے ہیں، اسے اپنے مخصوص فکری زاویے سے پرکھ کر الفاظ کا جامہ پہنا دیتے ہیں۔ یہی وصف ایک صاحبِ قلم کو محض لکھنے والے سے ممتاز کرکے صاحبِ نظر ادیب بنا دیتا ہے۔ ان کی تحریروں میں مشاہدے کی گہرائی، فکر کی پختگی اور معاشرتی شعور کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔

ان کی زندگی کا ایک اور قابلِ احترام پہلو یہ ہے کہ ان کی شریکِ حیات بھی ایک معروف شاعرہ اور ادیبہ ہیں۔ یوں گھر کا ماحول بھی ادب، شعر، مطالعے اور تخلیقی فکر سے معمور ہے۔ یہ ادبی رفاقت فضل مومند کی شخصیت میں موجود تخلیقی توانائی کو مزید تقویت بخشتی ہے۔

فضل مومند کی شخصیت کو صرف ان کی ادبی و صحافتی خدمات کے حوالے سے دیکھنا شاید مکمل تصویر پیش نہ کرے۔ ان کی ذاتی زندگی بھی کئی خوب صورت انسانی اوصاف کا مجموعہ ہے۔ وہ صوم و صلوٰۃ کے پابند، ملنسار، خوش اخلاق اور خوش مزاج انسان ہیں۔ ان کے مزاج میں کدورت، حسد اور بغض کی کوئی گنجائش نہیں۔ وہ ہر شخص سے خندہ پیشانی سے ملتے ہیں اور یہی خلوص، سادگی اور حسنِ سلوک ان کی شخصیت کو مزید دل نشیں بنا دیتا ہے۔

ان کا لہجہ شیرین، گفتگو شائستہ اور اندازِ ملاقات دل آویز ہے۔ وہ ان شخصیات میں سے ہیں جن کی مجلس میں بیٹھ کر انسان خود کو اجنبی محسوس نہیں کرتا۔ ان کی گفتگو میں علم بھی ہے، تجربہ بھی، مشاہدہ بھی اور زندگی کے نشیب و فراز سے حاصل کیا ہوا شعور بھی۔

حقیقت یہ ہے کہ فضل مومند نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ پشتو زبان و ادب کی خدمت کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ دیارِ غیر میں رہ کر مادری زبان کے لیے کام کرنا، ادبی تنظیموں کو فعال رکھنا، نئی نسل کو زبان و ادب سے جوڑنا، صحافت کے ذریعے حالاتِ حاضرہ پر قلم اٹھانا، مشاعروں اور ثقافتی سرگرمیوں میں حصہ لینا اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو مسلسل بروئے کار لانا ان کی شخصیت کا وہ روشن پہلو ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ایسے لوگ کسی ایک ادارے، تنظیم یا عہدے کے محتاج نہیں ہوتے۔ ان کی اصل پہچان ان کا فکر و فن، کردار اور زبان سے وفاداری ہوتی ہے۔ فضل مومند بھی انہی لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے پشتو زبان کو محض اظہار کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے اپنی تہذیبی شناخت، اپنی روح اور اپنی فکری میراث کا امین جانا۔

آج جب مادری زبانوں کو نئی نسل تک منتقل کرنے کے لیے سنجیدہ کاوشوں کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے، فضل مومند جیسے اہلِ قلم کی خدمات مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔ ان کی ادبی و صحافتی زندگی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ زبان سے محبت صرف شعر کہنے یا نثر لکھنے کا نام نہیں، بلکہ زبان کی بقا، ترویج، تہذیب اور نئی نسل تک اس کی منتقلی کے لیے مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔

فضل مومند بلاشبہ پشتو زبان و ادب کے ان خاموش مگر مؤثر خدمت گاروں میں سے ہیں جنہوں نے اپنی بساط بھر چراغ جلائے ہیں۔ ان کی ادبی مساعی، صحافتی خدمات، علمی ذوق، وسیع مطالعہ اور انسانی اوصاف انہیں ایک ایسی شخصیت بناتے ہیں جس کا تذکرہ محبت، احترام اور ادبی وقار کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔

ایسے لوگ وقت کے صفحات پر صرف اپنا نام نہیں لکھتے، بلکہ اپنی زبان، اپنے ادب اور اپنی تہذیب کے لیے ایک ایسا نقش چھوڑ جاتے ہیں جسے آنے والی نسلیں بھی پڑھتی اور محسوس کرتی ہیں۔ فضل مومند بھی اسی روشن قافلے کے ایک معتبر مسافر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے