اوکاڑہ (کیو این این ورلڈ/ بیورو چیف ملک ظفر) اوکاڑہ کے نواحی دیہات 22 فور ایل سے 31 فور ایل کوڑی تک جانے والی مرکزی شاہراہ گزشتہ پچیس برسوں سے حکام کی عدم توجہی کا شکار ہے، جس کے باعث مقامی آبادی کے لیے ترقی کے تمام حکومتی دعوے صرف کاغذوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ سڑک کی شدید ٹوٹ پھوٹ اور جگہ جگہ گہرے گڑھوں نے نہ صرف ٹریفک کی روانی کو متاثر کیا ہے بلکہ یہ راستہ اب حادثات کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ اس سڑک سے روزانہ سینکڑوں طلبہ، کسان اور مریض اوکاڑہ، ساہیوال اور پاکپتن کی منڈیوں اور ہسپتالوں تک پہنچنے کے لیے گزرتے ہیں، مگر خستہ حالی کی وجہ سے یہ چند کلومیٹر کا سفر گھنٹوں پر محیط ہو جاتا ہے۔ کسانوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ زرعی اجناس کو منڈی تک لے جانا ایک عذاب بن چکا ہے، جبکہ ایمبولینس سروسز بھی بروقت نہیں پہنچ پاتی ہیں۔

مقامی سماجی و صحافتی شخصیت ملک ظفر اقبال بھوہڑ نے اس صورتحال پر سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیہی علاقوں کو ترقیاتی منصوبوں میں مسلسل نظر انداز کرنا ناانصافی کی انتہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ترقی کا عمل صرف شہری مراکز تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ دیہی عوام کو بھی ان کا جائز حق دیا جائے۔ ملک ظفر اقبال بھوہڑ نے حلقہ پی پی 190 کے صوبائی اور این اے 136 کے قومی اسمبلی کے نمائندوں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی خاموشی توڑیں اور اس سڑک کی تعمیر و مرمت کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فنڈز مختص کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ دیہی عوام بھی اسی حلقے کا حصہ ہیں اور ووٹ لینے والے سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے بنیادی مسائل حل کریں۔

عوامی حلقوں نے کمشنر ساہیوال اور ڈی سی اوکاڑہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیں اور متعلقہ محکموں کو کام شروع کرنے کے احکامات جاری کریں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر سڑک کی حالت فوری طور پر بہتر نہ کی گئی تو وہ احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔ سڑک کی تعمیر سے نہ صرف علاقے میں معاشی سرگرمیاں تیز ہوں گی بلکہ کسانوں، طلبہ اور مریضوں کی مشکلات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ اس وقت پورا علاقہ انتظامیہ کی کارکردگی سے نالاں ہے اور عملی اقدامات کا منتظر ہے تاکہ برسوں سے زیر التوا یہ عوامی مسئلہ مستقل طور پر حل ہو سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے