راولپنڈی (کیو این این ورلڈ) اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی لندن میں مقیم ان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان سے ٹیلی فون پر طویل بات چیت کرائی گئی ہے۔ جیل حکام کی جانب سے جاری کردہ بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح احکامات کی روشنی میں بانی پی ٹی آئی کی بچوں سے بات کروانے کا انتظام کیا گیا، جس کے دوران انہوں نے تقریباً 30 منٹ سے زائد وقت تک اپنے بیٹوں سے گفتگو کی۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا گیا ہے، تاہم اس گفتگو کی مزید تفصیلات اور مندرجات تاحال منظرِ عام پر نہیں آئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ ٹیلیفونک رابطہ گزشتہ روز ممکن ہوا جس کے لیے جیل انتظامیہ نے تمام ضروری تکنیکی انتظامات مکمل کیے تھے۔ عمران خان کے دونوں بیٹے قاسم اور سلیمان اپنی والدہ کے ہمراہ لندن میں مقیم ہیں اور طویل عرصے سے اپنے والد سے رابطے کے منتظر تھے۔ اس سے قبل پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم اور اہل خانہ نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کے بچوں سے بات کرنے کی اجازت دی جائے، جس پر عدالت نے انسانی ہمدردی اور قانونی حقوق کے پیش نظر جیل حکام کو ہدایات جاری کی تھیں۔ جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ گفتگو کے دوران بانی پی ٹی آئی نے بچوں کی خیریت دریافت کی اور مختلف گھریلو معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔

سیاسی حلقوں میں اس رابطے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ پی ٹی آئی قیادت مسلسل یہ شکایت کر رہی تھی کہ سابق وزیراعظم کو بنیادی سہولیات اور اہل خانہ سے رابطے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ جیل حکام نے واضح کیا ہے کہ عدالتی احکامات کے مطابق مستقبل میں بھی ضابطے کے تحت ایسے رابطے کروائے جا سکتے ہیں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے حامیوں اور سوشل میڈیا پر اس خبر کو مثبت قرار دیتے ہوئے اسے بانی پی ٹی آئی کا قانونی حق قرار دیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جیل مینوئل اور عدالتی احکامات کی پاسداری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے