ننکانہ صاحب (کیو این این ورلڈ/ نامہ نگار احسان اللہ ایاز) پاکستان کے معروف عالم دین مولانا محمود الحسن غضنفر نے اپنے ایک خصوصی بیان میں کہا ہے کہ جب انسان تقویٰ اختیار کرتا ہے تو اللہ رب العالمین اس کے لیے زمین و آسمان سے برکتوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے مقدس اور بابرکت مہینے میں کثرت سے سخاوت فرماتے اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے تھے، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں رمضان المبارک کے موقع پر اکثر لوگ مصنوعی مہنگائی پیدا کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منافع خور طبقہ غریب اور سفید پوش عوام، جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، کا خون چوسنے کے لیے مستعد ہو جاتا ہے اور اس صورتحال میں پرائس کنٹرول کمیٹیاں بھی بالکل بے بس نظر آتی ہیں۔

مولانا محمود الحسن غضنفر نے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ کئی غیر مسلم ممالک میں رمضان المبارک کی آمد سے پہلے ہی خصوصی بازار لگائے جاتے ہیں جہاں عوام کو بہت کم قیمت پر اشیاء خوردونوش مہیا کی جاتی ہیں، جبکہ ہمارے ہاں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اپنے طور پر غریب عوام کو ریلیف دینے کی کوشش تو کرتی ہے مگر وہ سنگدل منافع خوروں کے آگے بے بس دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے تاجر برادری اور منافع خوروں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کا مال و منال ادھر ہی رہ جائے گا اور صرف نیک اعمال ہی انسان کے ساتھ قبر میں جائیں گے، اس لیے اپنی عاقبت سنوارنے کے لیے منافع خوری کم کی جائے اور غریب عوام کو سستے داموں اشیاء فراہم کی جائیں تاکہ وہ بھی سکون کے ساتھ روزے رکھ سکیں اور سکھ کا سانس لے سکیں۔

عالمِ دین نے مزید کہا کہ رمضان المبارک ہمدردی اور ایثار کا مہینہ ہے، اس لیے صاحبِ ثروت افراد کو چاہیے کہ وہ اس بابرکت مہینے میں ذخیرہ اندوزی اور زائد قیمتیں وصول کرنے کے بجائے غریبوں کی داد رسی کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ حقیقی کامیابی اللہ کے احکامات پر عمل پیرا ہونے اور مخلوقِ خدا کے لیے آسانیاں پیدا کرنے میں پوشیدہ ہے۔ اگر ہم اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں اور خوفِ خدا کو مقدم رکھیں تو معاشرے سے معاشی ناانصافیوں کا خاتمہ ممکن ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو اللہ کی خوشنودی اور برکتوں کے حصول کا ضامن ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے