اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) وزیراعظم شہباز شریف نے ماہِ رمضان المبارک کی آمد سے قبل غریب اور متوسط طبقات کے لیے 38 ارب روپے کے تاریخی رمضان ریلیف پیکج کا اجرا کر دیا ہے، جس کے تحت ملک بھر کے ہر مستحق خاندان کو 13 ہزار روپے نقد فراہم کیے جائیں گے۔ اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے ماضی کے فرسودہ اور تکلیف دہ امدادی نظام کو ختم کر کے ایک جدید اور شفاف ڈیجیٹل طریقہ کار متعارف کرایا ہے تاکہ عوام کی عزتِ نفس مجروح کیے بغیر ان تک براہِ راست ریلیف پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس پیکج سے ایک کروڑ 21 لاکھ خاندان مستفید ہوں گے اور یہ امداد چاروں صوبوں سمیت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مستحقین میں بلا تفریق تقسیم کی جائے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں یوٹیلیٹی اسٹورز کے پرانے نظام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اشیاء خوردونوش کا معیار انتہائی ناقص ہوتا تھا اور عوام کو خریداری کے لیے طویل قطاروں میں ذلیل ہونا پڑتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال تجرباتی طور پر نقد رقوم کی منتقلی کا نظام شروع کیا گیا تھا جس میں 20 ارب روپے شفاف طریقے سے تقسیم کیے گئے تھے، اور اس کامیابی کے بعد اب اس رقم کو بڑھا کر 38 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ رقوم کی ادائیگی بینک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے کی جائے گی تاکہ کرپشن اور کٹوتی کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔

حکومت نے عوام کی شکایات سننے اور ان کے فوری ازالے کے لیے ایک خصوصی مانیٹرنگ سیل بھی قائم کر دیا ہے جو ادائیگیوں کے عمل کی نگرانی کرے گا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ خود اس پروگرام پر عمل درآمد کا تواتر سے جائزہ لیں گے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ حقدار کو اس کا حق بروقت مل رہا ہے۔ انہوں نے مخیر حضرات اور معاشرے کے صاحبِ ثروت افراد سے بھی اپیل کی کہ وہ اس بابرکت مہینے میں دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے آگے آئیں اور حکومتی کوششوں میں ہاتھ بٹائیں۔

اس ریلیف پیکج کو معاشی ماہرین نے مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام کے لیے ایک بڑا سہارا قرار دیا ہے۔ وزیراعظم نے اعادہ کیا کہ حکومت کی تمام تر ترجیحات عام آدمی کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنا ہے اور اس ڈیجیٹل نظام کا مقصد ٹیکنالوجی کے ذریعے شفافیت کو یقینی بنانا ہے تاکہ کسی بھی مستحق کی حق تلفی نہ ہو۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ادائیگیوں کے دوران سیکیورٹی اور سہولت کے تمام انتظامات مکمل رکھے جائیں تاکہ بزرگوں اور خواتین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے