بھارتی دہشت گردی، پاکستان پر نیا الزام، این ڈی ٹی وی کی جھوٹی رپورٹ
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی

پاکستان کے خلاف بھارتی جارحیت اب محض سرحدی خلاف ورزیوں یا سفارتی دباؤ تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایک منظم اور خطرناک ہائبرڈ وار فیئر کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ ایک طرف بھارت پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں اپنی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے، تو دوسری جانب عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے کے لیے مسلسل نئے الزامات اور پروپیگنڈا مہمات شروع کی جا رہی ہیں۔ انہی دو بنیادی مقاصد کے حصول کے لیے بھارت نے ایک نئے اور نہایت خطرناک منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے۔

بلوچستان میں بھارتی پراکسیوں کے ذریعے ہونے والے دہشت گرد حملے ہوں یا خیبر پختونخوا میں افغانستان کے راستے فتنہ الخوارج کے ذریعے خونریزی، ان تمام کارروائیوں کے پیچھے ایک ہی ہاتھ واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ بلوچستان سے گرفتار ہونے والا بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو اس بات کا زندہ اور ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ خطے میں دہشت گردی کا اصل ماسٹر مائنڈ کون ہے اور کون اسے بطور ریاستی پالیسی استعمال کر رہا ہے۔

اسی تناظر میں حالیہ دنوں امریکی عدالتی نظام میں سامنے آنے والے انکشافات نے بھارت کے نام نہاد جمہوری اور پُرامن چہرے کو عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا ہے۔ امریکی ریاست نیویارک میں سکھ علیحدگی پسند رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کرنے کی ناکام سازش کے مقدمے میں بھارتی شہری نکھل گپتا نے مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں اعترافِ جرم کیا۔ اس نے تسلیم کیا کہ اس نے بھارتی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی ایما پر نیویارک میں قتل کی منصوبہ بندی کی اور کرائے کے قاتل سے رابطہ کیا۔ یہ اعتراف اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارتی ریاست اب بین الاقوامی دہشت گردی کے ذریعے اپنے مخالفین کو خاموش کرانے کی پالیسی پر کھل کر عمل پیرا ہے۔

بھارت کا مکروہ چہرہ ہمیشہ سے جھوٹے الزامات، خود ساختہ حملوں اور پاکستان کو بدنام کرنے کی سازشوں سے اٹا ہوا ہے۔ بھارتی میڈیا، خاص طور پر وہ ادارے جو بھارتی خفیہ ایجنسی را اور انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے اثر و رسوخ میں کام کرتے ہیں، ہر بڑے واقعے کے فوراً بعد پاکستان پر دہشت گردی کا الزام عائد کر دیتے ہیں۔ بعد ازاں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حقائق سامنے آتے ہیں کہ یہ دراصل فالس فلیگ آپریشنز ہوتے ہیں، مگر تب تک مقصد حاصل ہو چکا ہوتا ہے۔

13 فروری 2026 کو بھارتی چینل NDTV پر شائع ہونے والی حالیہ رپورٹ اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے۔ اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جیشِ محمد اور لشکرِ طیبہ خواتین کو بھرتی کر کے اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں اور مستقبل میں خواتین خودکش حملہ آوروں کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کا حوالہ دے کر پیش کی جانے والی یہ خبر دراصل اس لیے شائع کی گئی ہے تاکہ کسی آئندہ فالس فلیگ آپریشن کے لیے ذہن سازی کی جا سکے۔ خدشہ یہ ہے کہ مستقبل قریب میں "را” یا "آر ایس ایس” خود کوئی بڑا دھماکہ کروا کر اس کا الزام ان تنظیموں پر ڈال دیں اور پاکستان کو عالمی پابندیوں کی زد میں لانے کی کوشش کی جائے۔

بھارت کا ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ وہ داخلی سیاسی فائدے کے لیے بے گناہ انسانوں کے خون سے کھیلتا رہا ہے۔ 18 فروری 2007 کا سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکہ اس کی بدترین مثال ہے۔ اس حملے میں 68 افراد، جن میں اکثریت پاکستانی شہریوں کی تھی، ہلاک ہوئے۔ ابتدا میں بھارت نے حسبِ روایت پاکستان پر الزام عائد کیا، مگر بعد میں این آئی اے کی تفتیش سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ یہ حملہ ہندو انتہا پسند گروہ ’’ابھینو بھارت‘‘ اور سوامی آسیمانند کی کارستانی تھا۔ آسیمانند نے خود اعتراف کیا کہ یہ کارروائی ’’بم کے بدلے بم‘‘ کی پالیسی کے تحت کی گئی تھی۔

اسی طرح 26 نومبر 2008 کے ممبئی حملے آج بھی کئی سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ اس واقعے کے دوران ہیمنت کرکڑے جیسے ایماندار افسر کی ہلاکت، جو ہندو دہشت گردی کی تفتیش کر رہے تھے، پورے واقعے کو مزید مشکوک بنا دیتی ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ ممبئی حملے کو ایک اندرونی ڈرامے کے طور پر استعمال کیا گیا تاکہ پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کیا جا سکے اور خطے میں کشیدگی کو ہوا دی جا سکے۔

14 فروری 2019 کو ہونے والا پلوامہ حملہ بھی اسی تسلسل کی ایک مثال ہے، جسے مودی سرکار نے اپنی سیاسی بقا کے لیے استعمال کیا۔ سابق گورنر ستیہ پال ملک کے اعترافات نے اس حقیقت کو آشکار کیا کہ اس واقعے میں سکیورٹی کی سنگین خامیوں کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا اور بعد ازاں اسے انتخابی فائدے کے لیے استعمال کیا گیا۔ بالاکوٹ پر بھارت کی ناکام مہم جوئی بھی اسی جارحانہ اور فریب پر مبنی پالیسی کا حصہ تھی۔

اپریل 2025 کا پہلگام حملہ ہو یا اب 2026 میں خواتین کی مبینہ بھرتی کی من گھڑت کہانیاں، بھارت کا پیٹرن بالکل واضح ہے۔ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ میں جیش کے ’’جماعت المؤمنات‘‘ اور لشکر کے ’’طیبات ونگ‘‘ کو اکتوبر 2025 سے فعال قرار دینا دراصل کسی نئے فالس فلیگ آپریشن کی بنیاد رکھنے کی کوشش ہے، تاکہ مستقبل میں کسی بھی واقعے کا ملبہ پاکستان پر ڈالا جا سکے۔

ان تمام سازشوں کا مقصد محض پاکستان کو دفاعی طور پر کمزور کرنا نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر سے عالمی توجہ ہٹانا اور داخلی طور پر ہندو قوم پرستی کو ہوا دے کر مودی حکومت کے اقتدار کو طول دینا ہے۔ بھارت خود حملے کرواتا ہے، امن کی بات چیت سے فرار اختیار کرتا ہے اور پھر عالمی سطح پر مظلوم بننے کا ڈھونگ رچاتا ہے۔ سمجھوتہ ایکسپریس سے لے کر پنوں قتل کی سازش تک، ہر واقعہ ایک ہی کہانی سناتا ہے کہ بھارت عملی طور پر ایک دہشت گرد ریاست کا روپ دھار چکا ہے۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار سے زائد قیمتی جانوں کی قربانی دی ہے اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان ان بھارتی سازشوں کا بھرپور اور مؤثر سفارتی جواب دے۔ عالمی فورمز پر نکھل گپتا کے اعترافِ جرم، کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور بھارتی میڈیا کے جھوٹے پروپیگنڈے کو ٹھوس شواہد کے طور پر پیش کرنا ہوگا۔ عالمی برادری کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن تب تک ممکن نہیں جب تک بھارت اپنی مکارانہ پالیسیاں، ریاستی دہشت گردی اور فالس فلیگ آپریشنز بند نہیں کرتا۔

آخر میں صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ خطے کی سلامتی، استحکام اور سچ کے تقاضوں کے لیے بھارت کے مکروہ چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے