ڈیرہ غازی خان (کیو این این ورلڈ/ نامہ نگار) ڈیرہ غازی خان کی ثقافتی سرزمین ایک بار پھر سرائیکی رنگوں سے مہک اٹھی جب سرائیکی قومی زبان میلہ، آسیان نیوز رائٹرز اور ڈی جی خان آرٹس کونسل کے اشتراک سے شایانِ شان انداز میں منعقد ہوا۔ اس عظیم الشان میلے کا بنیادی مقصد سرائیکی زبان، قدیم ثقافت اور روایات کے فروغ کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل میں اپنی مادری زبان سے محبت اور شعور اجاگر کرنا تھا۔ میلے کے چیف آرگنائزر ڈاکٹر احسان احمد چنگوانی، میڈیم سلمیٰ گل اور عاصم امام سومرو تھے، جبکہ ثقافتی پروگرام کی صدارت ڈاکٹر احسان احمد چنگوانی نے کی اور محفلِ موسیقی و مشاعرہ کی صدارت ڈاکٹر نعمان طیب چنگوانی کے سپرد رہی۔

تقریب کے دوران صدارتی خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر احسان احمد چنگوانی نے کہا کہ سرائیکی ثقافت دنیا کی قدیم اور منفرد ثقافتوں میں شمار ہوتی ہے اور ایسے میلوں کے انعقاد سے معاشرے میں مثبت سرگرمیوں اور ذہنی آسودگی کو فروغ ملتا ہے۔ ڈاکٹر نعمان طیب چنگوانی نے اپنے خطاب میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرائیکی زبان کو قومی، تعلیمی اور دفتری زبان کا درجہ دیا جائے کیونکہ آئینِ پاکستان تمام زبانوں کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ مہمانِ خصوصی ظہور احمد دھریجہ، محمد اکبر انصاری ایڈووکیٹ اور سجاد اکبر ملکانی نے بھی خطاب کیا اور مادری زبانوں کے حقوق کے تحفظ اور لسانی شناخت کی بنیاد پر ترقی کی اہمیت پر زور دیا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر آرٹس کونسل نعیم اللہ طفیل نے یقین دلایا کہ آرٹس کونسل آئندہ بھی ایسے ادبی و ثقافتی پروگراموں کی سرپرستی جاری رکھے گی۔

میلے میں ثقافتی رنگوں اور فنونِ لطیفہ کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا، جہاں اعظم خان کلوئی اور محمد اختر چنال نے روایتی جھمر اور تلوار کا رقص پیش کر کے حاضرین سے خوب داد سمیٹی۔ محفلِ مشاعرہ میں منصور اصغر چنگوانی، سجاد خان میرانی، غلام عباس سیفی، ساجد فرید لغاری، زین عشرت لغاری اور یوسف خان لنگاہ نے اپنے خوبصورت کلام سے سماں باندھ دیا۔ موسیقی کی محفل میں سرور ڈیروی، آغا جانی اور عنصر عباس نے اپنی سریلی آوازوں سے سرائیکی وسیب کی روایتی دھنیں بکھیریں جس پر شرکاء جھوم اٹھے۔ تقریب کا آغاز ایمان زہرا کی تلاوت اور نغمہ انجم کی نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا جس نے محفل کو روحانی فضا سے معطر کر دیا۔

سرائیکی قومی زبان میلہ نہ صرف ثقافتی ورثے کی عکاسی کا مظہر تھا بلکہ یہ وسیب کے عوام کے جذبات، شناخت اور اتحاد کی علامت بن کر ابھرا۔ ملک جاوید چننڑ ایڈووکیٹ، صغیر احمدانی اور ملک سلیم بھٹہ ایڈووکیٹ سمیت دیگر مقررین نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا کہ سرائیکی زبان و ثقافت کے فروغ کے لیے ایسی تقریبات کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا تاکہ آنے والی نسلیں اپنی تہذیبی جڑوں سے جڑی رہیں۔ یہ میلہ شرکاء کے لیے ایک بہترین تفریح ثابت ہوا جہاں ادب، موسیقی اور ثقافت کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے