قصور (کیو این این ورلڈ/بیوروچیف طارق نوید سندھو)چھانگا مانگا پولیس نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے لاہور سے اغوا کی جانے والی دو کمسن بہنوں کو بازیاب کرا لیا جبکہ اغوا میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ کارروائی 12 فروری 2026 کی علی الصبح معمول کی گشت کے دوران عمل میں لائی گئی۔
پولیس کے مطابق تھانہ چھانگا مانگا کے ایس ایچ او محسن سندھو کی نگرانی میں پولیس ٹیم نے صبح تقریباً 4 بجے چھانگا مانگا کے علاقے میں سڑک پر مشتبہ حالت میں موجود دو لڑکیوں اور دو لڑکوں کو روکا۔ ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران لڑکیوں کی شناخت عروج فاطمہ (عمر 16 سے 17 سال) اور اس کی کمسن بہن منیسہ شہزادی (عمر 12 سے 13 سال) کے طور پر ہوئی، جو لاہور کے علاقے بکر منڈی کی رہائشی ہیں، جبکہ لڑکوں کی شناخت علی شان (بکر منڈی، لاہور) اور غلام فرید (شیرا کوٹ، لاہور) کے طور پر کی گئی۔
پولیس حکام کے مطابق علی شان عروج فاطمہ کا محلہ دار ہے جس نے اپنے ساتھی غلام فرید کے ساتھ مل کر سکول چھٹی کے بعد دونوں بہنوں کو ورغلا کر اغوا کیا اور انہیں لاہور سے چھانگا مانگا منتقل کیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق عروج فاطمہ طالبہ ہے، تاہم تعلیمی تفصیلات اور عمر کے حوالے سے مزید تصدیق کی جا رہی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ دونوں بہنوں کے اغوا کا مقدمہ پہلے ہی لاہور کے تھانہ نواں کوٹ میں والد کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج تھا۔ بچیوں کو فوری طور پر حفاظتی تحویل میں لے کر ملزمان کو گرفتار کیا گیا، بعدازاں قانونی کارروائی کے لیے انہیں تھانہ نواں کوٹ کے حوالے کر دیا گیا۔ بازیاب ہونے والی بچیوں کو والدین کو اطلاع دے کر ان کے حوالے کر دیا گیا۔
پولیس ترجمان کے مطابق گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ مختلف تھانوں سے ان کے ممکنہ سابقہ مجرمانہ ریکارڈ کی جانچ بھی کی جا رہی ہے، جس کے بعد قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع دیں تاکہ ایسے افسوسناک واقعات کی بروقت روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔