واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ جوہری معاہدے کے حوالے سے سخت اور دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تہران کو ہر صورت ڈیل کرنا ہوگی، ورنہ اسے انتہائی "دردناک” نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ امریکہ ایران کے ساتھ ایک نیا معاہدہ طے کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے اور انہیں قوی امید ہے کہ آئندہ ہفتے تک اس حوالے سے بڑی پیش رفت یا ڈیل مکمل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے ایران کو متنبہ کیا کہ اس بار انکار کی صورت میں صورتحال یکسر مختلف اور ایران کے لیے شدید مشکلات کا باعث ہوگی، جبکہ یہ معاہدہ بہت پہلے ہی ہو جانا چاہیے تھا۔
صدر ٹرمپ نے عالمی سفارتی محاذ پر ایک اور اہم اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ رواں سال اپریل میں چین کا دورہ کریں گے جہاں ان کی ملاقات چینی صدر شی جن پنگ سے ہوگی۔ انہوں نے امریکہ اور چین کے موجودہ تعلقات کو "بہت اچھے” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک اہم عالمی اور تجارتی امور پر مسلسل رابطے میں ہیں۔ سفارتی ماہرین ٹرمپ کے اس دورہ چین کو عالمی معیشت اور علاقائی استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں، جس سے دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان تناؤ میں کمی آنے کی توقع ہے۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے ایک بڑے مالیاتی پیکیج کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ آئندہ ہفتے غزہ کی تعمیر نو اور انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے اربوں ڈالر کی فنڈنگ کا باقاعدہ اعلان کریں گے۔ یہ اعلان 19 فروری کو واشنگٹن میں منعقد ہونے والے "غزہ بورڈ آف پیس” کے پہلے باضابطہ اجلاس میں کیا جائے گا، جس میں دنیا بھر سے 20 سے زائد ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ سطح کے وفود شرکت کریں گے۔ اس فنڈنگ کا بنیادی مقصد جنگ سے تباہ حال غزہ کے انفراسٹرکچر کی بحالی اور وہاں کے شہریوں کو فوری ریلیف فراہم کرنا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق "غزہ بورڈ آف پیس” کا قیام صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت غزہ میں ایک بین الاقوامی اسٹیبلائزیشن فورس کی تعیناتی اور شہری نظم و نسق کی بحالی پر کام کیا جائے گا۔ اس فنڈنگ میں امریکہ کے علاوہ دیگر کئی ممالک بھی اپنا حصہ ڈالیں گے، جسے غزہ کی تاریخ کا سب سے بڑا تعمیراتی منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کا یہ اقدام خطے میں دیرپا امن کے قیام اور حماس کے اثر و رسوخ کو ختم کر کے ایک نیا انتظامی ڈھانچہ متعارف کروانے کی کڑی سمجھا جا رہا ہے۔