اوچ شریف (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار حبیب خان) اولیائے کرام کی تاریخی نگری اوچ شریف ان دنوں منشیات کے عفریت کی لپیٹ میں ہے، جہاں "آئس” جیسے مہلک نشے نے اپنے پنجے گاڑ لیے ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں بشمول محلہ بخاری، شمیم آباد اور گیلانی کالونی میں منشیات کے باقاعدہ اڈے قائم ہو چکے ہیں، جس سے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس اور تشویش پائی جاتی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق منشیات فروشوں نے اپنا نیٹ ورک اس قدر منظم کر لیا ہے کہ اب گلی محلوں میں آئس کی "ہوم ڈلیوری” شروع کر دی گئی ہے۔ نوجوان نسل محض ایک فون کال یا پیغام پر موت کا یہ سامان اپنے گھر کی دہلیز پر حاصل کر رہی ہے۔ اس صورتحال نے والدین کی نیندیں اڑا دی ہیں اور کئی ہنستے بستے گھرانے اس لعنت کی وجہ سے اجڑنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
آئس کے بڑھتے ہوئے استعمال نے شہر میں امن و امان کی صورتحال کو بھی متاثر کیا ہے اور جرائم کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ نشے کی طلب پوری کرنے کے لیے نوجوان چوری، ڈکیتی اور موبائل چھیننے جیسی وارداتوں میں ملوث ہو رہے ہیں۔ رات کے اوقات میں شہریوں کا پیدل چلنا محال ہو چکا ہے، جبکہ ویران جگہوں پر نشئیوں کے ڈیرے انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔
شہریوں، سماجی حلقوں اور متاثرہ والدین نے آئی جی پنجاب اور اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اوچ شریف میں منشیات کے سوداگروں کے خلاف فی الفور اور فیصلہ کن کریک ڈاؤن کیا جائے۔ انہوں نے اپیل کی ہے کہ اس مکروہ دھندے میں ملوث بڑے مگرمچھوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ علاقے کو اس ناسور سے پاک اور نئی نسل کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔