شیخوپورہ (کیو این این ورلڈ)بھارت سے پاکستان آ کر اسلام قبول کرنے والی خاتون سربجیت کور، جس نے اپنا نام نور فاطمہ رکھا، اب اپنے شوہر ناصر حسین کے گھر پہنچ گئی ہیں۔ یہ کیس نومبر 2025 سے شروع ہوا اور فروری 2026 تک مختلف قانونی و انتظامی مراحل سے گزرتا رہا، جس نے پاکستان اور بھارت میں میڈیا کی توجہ حاصل کی۔
سربجیت کور، عمر تقریباً 48 سال، بھارت کے پنجاب سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ 4 نومبر 2025 کو سکھ یاتریوں کے ایک گروپ کے ساتھ پاکستان آئیں، جو گرو نانک دیو جی کی 556ویں برسی (پرکاش پروش) میں شرکت کے لیے آیا تھا۔ ان کا ویزا 13 نومبر 2025 تک معتبر تھا، لیکن وہ واپس بھارت نہیں گئیں۔ سوشل میڈیا پر 2016 سے ان کا شیخوپورہ (لاہور کے قریب) کے رہائشی ناصر حسین سے رابطہ تھا۔ 5 نومبر 2025 کو انہوں نے اسلام قبول کیا اور نام نور فاطمہ رکھا۔ اسی دن یا جلد ہی انہوں نے ناصر حسین سے پسند کی شادی (نکاح) کر لی، جو فاروق آباد، ضلع شیخوپورہ میں منعقد ہوئی۔ نکاح میں مہر 10,000 روپے مقرر تھا۔ خاتون نے عدالت میں بیان دیا کہ یہ فیصلہ ان کی آزاد مرضی سے کیا گیا اور وہ شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔
ویزا کی میعاد ختم ہونے کے بعد نور فاطمہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر قیام پذیر رہیں، جس پر حکام نے کارروائی کی۔ نومبر 2025 میں ان کی گمشدگی کی اطلاع ملی۔ جنوری 2026 میں انہیں اور ناصر حسین کو گرفتار کیا گیا اور لاہور کے دارالامان (شیلٹر ہوم) منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کا طبی معائنہ کیا گیا اور وہ صحت مند قرار پائیں۔ بھارتی خاندان اور میڈیا نے الزام لگایا کہ وہ جبری طور پر مذہب تبدیل کرنے اور شادی کرنے پر مجبور کی گئی تھیں، لیکن خاتون نے پاکستانی عدالت میں اپنی آزاد مرضی سے شادی ہونے کا اعادہ کیا۔ پاکستانی حکومت نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر معاملہ دیکھا، کیونکہ خاتون نے بھارت میں مسلمانوں کی مشکلات کا ذکر کیا۔ جنوری 2026 میں انہیں واہگہ بارڈر پر لے جانے کی کوشش کی گئی تاکہ بھارت واپس بھیجا جا سکے، لیکن تکنیکی وجوہات اور NOC کی غیر موجودگی کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔
متروکہ وقف املاک کے حکام نے نور فاطمہ کو دارالامان سے نکلنے اور شوہر کے گھر جانے کی اجازت دی۔ 12 فروری 2026 تک وہ اپنے شوہر ناصر حسین کے گھر پہنچ چکی ہیں۔ مستقبل میں وہ اسپاؤس ویزہ یا دیگر قانونی طریقوں سے پاکستان میں قیام اختیار کر سکتی ہیں۔ یہ کیس پاکستان اور بھارت کے درمیان ویزا، مذہبی تبدیلی اور شادی کے قوانین پر بحث کا باعث بنا۔ پاکستانی میڈیا نے اسے پسند کی شادی کے طور پر رپورٹ کیا، جبکہ بھارتی میڈیا میں بعض خاندانی الزامات بھی شامل تھے۔ خاتون نے عدالت میں بار بار اپنے فیصلے کی آزادانہ نوعیت کی تصدیق کی۔