اہواز: (کیو این این ورلڈ) ایران کے مصروف بندرگاہی شہر بندرعباس کے بعد ملک میں ایک اور خوفناک دھماکا پیش آیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق جنوب مغربی صوبے خوزستان کے شہر اہواز میں ایک رہائشی عمارت میں دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں کم از کم 5 افراد جاں بحق جبکہ 14 زخمی ہوگئے، جن میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
دھماکے کے باعث متعدد گاڑیاں اور قریبی رہائشی مکانات بھی شدید متاثر ہوئے۔ واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ امدادی ٹیموں نے زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا۔
حکام کے مطابق دھماکے کی نوعیت جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں، تاہم ابتدائی طور پر واقعہ حادثاتی معلوم ہوتا ہے۔ مقامی میڈیا نے غیر مصدقہ اطلاعات میں دعویٰ کیا ہے کہ دھماکا گیس سلنڈر پھٹنے کے باعث ہوا، تاہم سرکاری سطح پر اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔
اس سے کچھ دیر قبل ایران کے بندرگاہی شہر بندرعباس میں ایک 8 منزلہ رہائشی عمارت میں بھی دھماکا ہوا تھا، جس کے نتیجے میں عمارت کی دو منزلیں مکمل طور پر منہدم ہوگئیں۔ اس واقعے میں کم از کم ایک شخص کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی جبکہ متعدد گاڑیوں اور دکانوں کو شدید نقصان پہنچا۔
یہ دونوں دھماکے ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کو جوہری معاہدے پر مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے فوجی کارروائی کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ امریکی بحریہ کا ایک بڑا جنگی بیڑا آبنائے ہرمز میں فوجی مشقوں میں مصروف ہے جبکہ ایک میزائل بردار جہاز بندرگاہ ایلات میں لنگر انداز ہو چکا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران میں ہونے والے دھماکوں پر اسرائیل سے رابطہ کیا گیا تو دو اعلیٰ اسرائیلی حکام نے واضح کیا کہ ان واقعات سے اسرائیل کا کوئی تعلق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی کسی کارروائی پر فی الحال غور نہیں کیا جا رہا، تاہم دفاع کے لیے ہر وقت چوکس ہیں۔
دوسری جانب امریکا کی جانب سے ایران میں ہونے والے دھماکوں پر تاحال کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا، حالانکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایران کو ڈیڈ لائن دینے کا اعلان کیا تھا۔
ایران نے بھی فوری طور پر ان دھماکوں کی ذمہ داری اسرائیل یا امریکا پر عائد نہیں کی۔