گوجرانوالہ (کیو این این ورلڈ/بیورو چیف محمد رمضان نوشاہی) – کھیت سے پلیٹ تک محفوظ خوراک کی فراہمی کے مشن کے تحت پنجاب فوڈ اتھارٹی گوجرانوالہ نے جارحانہ کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز کی سربراہی میں فوڈ سیفٹی ٹیمیں گزشتہ 2 روز میں ضلع بھر میں 400 سے زائد فوڈ پوائنٹس پر چھاپے مار چکی ہیں۔
اس دوران 30 فوڈ بزنسز کو مجموعی طور پر 3 لاکھ 58 ہزار روپے جرمانے عائد کیے گئے۔ کلاسکے اڈا پر واقع ایک سوئٹس شاپ اور ڈی سی روڈ پر واٹر پلانٹ کی پروڈکشن یونٹس سنگین خلاف ورزیوں پر بند کر دی گئیں۔ ناکہ بندیوں کے دوران 235 دودھ بردار گاڑیوں اور 35 ملک شاپس میں موجود 57 ہزار لیٹر دودھ کا معائنہ بھی کیا گیا۔
فوڈ ٹیموں نے کلاسکے، ڈی سی روڈ، وزیرآباد، ایمن آباد، قلعہ دیدار سنگھ اور نوشہرہ ورکاں سمیت ضلع کے ہر گوشے میں چیکنگ کی۔ اس عمل میں 2 من سے زائد ایکسپائرڈ اور ممنوعہ اشیاء خوراک اور 15 لیٹر مضر صحت بیوریجز کو موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔ مزید 54 فوڈ پوائنٹس کو بہتری کے لیے اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔
چیکنگ کے دوران فوڈ یونٹس میں صفائی کے ناقص انتظامات، ملازمین کے میڈیکل اور ٹریننگ سرٹیفکیٹس کی عدم موجودگی، بدبودار پروسیسنگ ایریاز اور اشیاء کو زمین پر رکھنے جیسے سنگین مسائل سامنے آئے۔ سوئٹس شاپ میں ایکسپائرڈ مواد اور واٹر پلانٹ میں سوڈووموناس بیکٹیریا کی موجودگی پائی گئی۔
ترجمان پنجاب فوڈ اتھارٹی نے بتایا کہ فوڈ فراڈ مافیا کے خلاف 24/7 کارروائیاں جاری رہیں گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایات پر محفوظ خوراک کی فراہمی کا مشن پرامن سلوکی سے جاری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ممنوعہ اور ایکسپائرڈ اجزاء کا استعمال موذی امراض کا باعث بن سکتا ہے۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ خوراک میں جعل سازی یا غیر معیاری اشیاء کی اطلاع 1223 ہیلپ لائن یا پنجاب فوڈ اتھارٹی کے فیس بک پیج پر درج کرائیں۔ فوڈ اتھارٹی کا عزم ہے کہ صارفین کو محفوظ اور صحت بخش خوراک کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔