راولپنڈی (کیو این این ورلڈ)ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جی ایچ کیو میں ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم، تمام سیاسی جماعتیں اور سکیورٹی فورسز ایک ہی بیانیے پر متحد ہیں اور اس موقف سے ہمیں کوئی "ٹس سے مس” نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سال 2025 میں جہاں "پیغامِ پاکستان” کا اعادہ کیا گیا، وہیں ہندوستان، فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کا گٹھ جوڑ بھی مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ "باریک وارداتیے” بھارتی میڈیا پر بیٹھ کر پاکستان پر حملے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، ہم واضح کرتے ہیں کہ افغانستان اور ہندوستان شوق پورا کر کے دیکھ لیں، پاک فوج بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے سخت سوال اٹھایا کہ دہشت گردوں سے جھڑپوں کے وقت طالبان کا نام نہاد وزیر خارجہ کہاں تھا؟ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں کوئی باقاعدہ حکومت نہیں بلکہ ایک چھوٹا سا گروہ قابض ہے جو ہندوستانیوں کے پاؤں پڑ رہا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 20 بین الاقوامی دہشت گرد تنظیمیں فعال ہیں اور اب دنیا سمیت ایران، آذربائیجان اور تاجکستان بھی اعتراف کر رہے ہیں کہ افغانستان دہشت گردی کا گڑھ بن چکا ہے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت کے رویے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب پوری قوم اور سکیورٹی فورسز قربانیاں دے رہی ہیں، ایسے میں ایک صوبائی حکومت کا یہ کہنا کہ وہ آپریشن نہیں ہونے دیں گے، انتہائی افسوسناک ہے۔ کیا یہ لوگ دوبارہ سوات جیسا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں جہاں ہزاروں معصوم افراد کو شہید کیا گیا؟ ان کا کہنا تھا کہ ایسے لوگوں کا بیانیہ اب کھل کر سامنے آگیا ہے، یہ فتنہ الخوارج کا منظورِ نظر بننا چاہتے ہیں اور ان کے پاس پرانے سیاسی بیانیے کے علاوہ کسی سوال کا کوئی ٹھوس جواب موجود نہیں ہے۔

ترجمان پاک فوج نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیانات کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ فرما رہے ہیں کہ افغانستان ہماری سکیورٹی کی گارنٹی دے اور کابل ہماری مدد کرے، یہ کون سی تسکین کی پالیسی ہے؟ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں پوچھا کہ اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو کیا خوارج کے پیروں میں بیٹھنا ہے؟ کیا یہ چاہتے ہیں کہ خارجی نور ولی محسود کو صوبے کا وزیراعلیٰ لگا کر اس کی بیعت کر لی جائے؟ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ کیا اب ہبت اللہ بتائیں گے کہ چارسدہ میں کیا ہونا ہے؟ ریاست پاکستان اپنی رٹ قائم رکھنے کے لیے کسی بھی گروہ یا بیانیے کے سامنے جھکنے کے بجائے دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ طاقت کے زور پر جیتنے کے عزم پر قائم ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے