اسلام آباد: (کیو این این ورلڈ)وفاقی محتسب نے سال 2025ء کے دوران عوامی خدمت اور انصاف کی فراہمی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں، جہاں مجموعی طور پر 4 لاکھ سے زائد شہریوں کو مختلف سرکاری اداروں کے خلاف ریلیف فراہم کیا گیا۔ ادارے کی جانب سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سال کے دوران 10.2 ارب روپے مالیت کے مقدمات کے مفت فیصلے کیے گئے، جو کہ حکومتی اداروں میں شفافیت، احتساب اور گڈ گورننس کے فروغ کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوئے ہیں۔ وفاقی محتسب نے 2025ء میں مجموعی طور پر 261,101 شکایات پر حتمی فیصلے صادر کیے، جن میں سے 96.8 فیصد فیصلوں پر کامیابی سے عملدرآمد بھی کرایا جا چکا ہے۔ ادارے کی مستعدی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 91 فیصد شکایات کا ازالہ مقررہ 60 دن کی قانونی مدت کے اندر کیا گیا، جس سے نہ صرف نظامِ عدل پر عوامی اعتماد بحال ہوا بلکہ سائلین کو طویل انتظار کی کوفت سے بھی نجات ملی۔
وفاقی محتسب نے مقامی شہریوں کے ساتھ ساتھ سمندر پار پاکستانیوں کے مسائل کے حل پر بھی خصوصی توجہ مرکوز رکھی، جس کے نتیجے میں 137,152 بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی شکایات دور کی گئیں۔ عوامی رسائی کو آسان بنانے کے لیے ملک بھر میں 166 کھلی کچہریاں منعقد کی گئیں اور 232 آؤٹ ریچ کمپلینٹ ریزولوشن (او سی آر) پروگراموں کے ذریعے ہزاروں متاثرہ افراد کو ان کی دہلیز پر انصاف پہنچایا گیا۔ اس کے علاوہ تنازعات کے غیر رسمی حل (آئی آر ڈی) کے تحت 7,356 پیچیدہ شکایات کو خوش اسلوبی سے نمٹایا گیا۔ وفاقی محتسب کا ادارہ اس وقت ایک طاقتور ‘عوامی عدالت’ کے طور پر کام کر رہا ہے جہاں بدانتظامی کے خلاف شکایت درج کروانے کے لیے نہ تو کسی وکیل کی ضرورت ہے اور نہ ہی کوئی فیس وصول کی جاتی ہے۔ بچوں کے حقوق کے تحفظ اور سمندر پار پاکستانیوں کے لیے الگ شکایات کمشنرز کی تعیناتی نے اس ادارے کی افادیت کو مزید دوچند کر دیا ہے۔
عوام الناس کی سہولت کے لیے وفاقی محتسب نے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیتے ہوئے شکایات کے اندراج کو انتہائی سہل بنا دیا ہے۔ شہری اب گھر بیٹھے موبائل ایپ، ای میل، آن لائن پورٹل یا بذریعہ ڈاک اپنی درخواستیں جمع کرا سکتے ہیں۔ کسی بھی سرکاری محکمے کی بدانتظامی یا ناانصافی کے خلاف فوری مدد کے لیے ہیلپ لائن نمبر 1055 مختص کیا گیا ہے، جبکہ بچوں سے متعلقہ شکایات اور ان کے حقوق کی پامالی کو روکنے کے لیے خصوصی ہیلپ لائن 1056 فعال ہے۔ وفاقی محتسب کی یہ غیر معمولی کارکردگی اس بات کی عکاس ہے کہ ریاست عام آدمی کو فوری اور سستا انصاف فراہم کرنے کے اپنے وعدے پر سختی سے عمل پیرا ہے اور سرکاری اداروں کی جوابدہی کے عمل کو مزید سخت بنا دیا گیا ہے۔